خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 110 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 110

خطبات ناصر جلد ششم 11۔خطبه جمعه ۲۸ مارچ ۱۹۷۵ء اللہ تعالیٰ کے فضل نے دنیا میں اسلام کو غالب کرنے کے لئے منتخب فرمایا ہے محض یہ دعوی کافی نہیں۔جب تک ہم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع اور اطاعت کا جوا اپنی گردن پر نہ رکھیں اور جب تک ہم آپ کی محبت میں فنا ہو کر فیوض میں حصہ دار نہ بنیں جن فیوض سے صحابہ کرام پہلے زمانہ میں بنے تھے۔اُس وقت تک ہم اس دنیا کے روحانی رہبر اور قائد نہیں بن سکتے اور جب تک ہم اس دنیا کے روحانی رہبر اور قائد نہ بنیں ہم اسلام کو دنیا میں غالب نہیں کر سکتے۔فلسفی تو بھٹکی ہوئی دنیا نے ہزاروں پیدا کر دیئے لیکن بے نتیجہ اور بے اثر۔آج دنیا جس ہلاکت کے گڑھے پر کھڑی ہے اس سے بچنے کے لئے وہ زبانِ حال سے خدا کے ان بندوں کو پکار رہی ہے جو حضرت بنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں اور دنیا کی ہمدردی میں گداز ہوں اور جن پر حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رنگ چڑھا ہوا ہو اور جنہوں نے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل اللہ تعالیٰ کے پیار کو حاصل کیا ہو اور جن کی زندگی ایک نشان اور حجت ہو دنیا کے لئے۔اس جماعت کو آج دنیا پکاررہی ہے فلسفیوں کو تو اُنہوں نے پکارا۔کئی ایک نے آوازسنی اور کئی ایک نے نہیں سنی۔جنہوں نے اُن کی آواز سنی وہ اُن کے پاس گئے مگر بے نتیجہ اور بے فائدہ۔ایک گیا اُس نے اپنی کہانی سنائی دوسرا گیا اُس نے اپنی رٹ لگائی لیکن وہ بات نہیں کہہ سکے جو انسانی فطرت کی سیری کا باعث بنتی ہے اور جو انسان کو زمین سے اُٹھا کر آسمانوں تک لے جاتی ہے جو انسان کو اجر دلاتی اور وہ تواضع سکھاتی ہے جس کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ خدا نے فرمایا میرا بندہ جتنی جتنی عاجزی کرتا چلا جائے گا میں اُسے اتنی اتنی بلندی دیتا چلا جاؤں گا۔پس عاجزانہ راہوں کو اختیار کر کے حضرت مہدی علیہ السلام کی آواز کو عملاً سُن کر اور قبول کرتے ہوئے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں اور آپ کے عشق میں بالکل محو اور فنا ہوئے بغیر ہم اس مقصد کو حاصل نہیں کر سکتے جس مقصد کے لئے ہم پیدا کئے گئے ہیں اور ہم جانتے ہیں اور ہم دعوی کرتے ہیں کہ ہم اس مقصد کے لئے پیدا کئے گئے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں تو فیق عطا کرے کہ ہم اپنے مقام کو پہچانیں اللہ تعالیٰ ہمیں تو فیق عطا کرے کہ ہم ان ذمہ داریوں کو پہچانیں جو اس مقام کے ساتھ وابستہ ہیں اور اللہ تعالیٰ ہمیں تو فیق عطا کرے کہ ان ذمہ داریوں کو