خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 85
خطبات ناصر جلد ششم ۸۵ خطبہ جمعہ ۷ / مارچ ۱۹۷۵ء نئے اجزا کو جو روز مرہ زندگی میں جزو بدن بنتے رہتے ہیں، زندگی سے تعبیر کیا جائے گا اور کچھ اجزا علیحدہ ہوتے رہتے ہیں جو موت کے مترادف ہے اس لئے کہا جاتا ہے فَإِنَّ الْبَشَرَ مَادَامَ فِي الدُّنْيَا يَمُوتُ جُزْءًا قَلِيلًا کہ دنیا میں انسان کے اجزا آہستہ آہستہ موت سے ہمکنار ہوتے یا موت کا منہ دیکھتے ہیں اور نئے اجزا اس کے جسم میں بصورت غذا داخل ہوتے ہیں جن کو ہضم کرنا پڑتا ہے یہ اس کی زندگی ہے۔ساتویں معنی زندگی کے بدن اور روح کے تعلق کے ہیں۔جسم اور روح کے اتصال کو قرآن کریم نے حیات کہا ہے اور جب یہ اتصال باقی نہ رہے اور قوت حیوانیہ کا زوال ہو جائے اور بدن سے روح جدا ہو جائے تو اس کا نام موت ہے۔اس سارے مضمون میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ موت وحیات کو جس معنی میں بھی قرآن کریم نے لیا ہے اس میں بہت سی برکتیں اور رحمتیں پوشیدہ ہیں اس کی برکتوں اور رحمتوں کے حصول کی جگہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔یہ رحمتیں و برکتیں صرف اُس سے مل سکتی ہیں اور کہیں سے نہیں۔اسی طرح عقل یا قوت عاقلہ کا ہونا بھی زندگی ہے عقل بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے ملتی ہے اور عقل کے ذریعہ سے جو نعمتیں حاصل ہو سکتی ہیں وہ بھی اللہ تعالیٰ کے حکم سے حاصل ہوتی ہیں۔وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرُ - اسی طرح اگر موت نہ ہوتی اور صرف اس ورلی دنیا کی زندگی ہوتی تو روحانیت بھی نہ ہوتی اور وہ عظیم نعمتیں جن کا تعلق اُخروی زندگی کے ساتھ وابستہ ہے ان کی بھی امید نہ ہوتی تو پھر انسان اور سؤر میں کوئی فرق باقی نہ رہ جاتا۔پس موت کے ساتھ بھی اسی طرح برکات وابستہ ہیں جس طرح زندگی یا حیات کے ساتھ وابستہ ہیں اور پھر نشو و نما اور زندگی کے بعض دوسرے حصے ہیں مضمون لمبا ہے مگر چونکہ میری طبیعت خراب ہورہی ہے اس لئے میں نہایت مختصر کر رہا ہوں۔اصل چیز خیر اور برکت ہے اور یہ چیز میرے اس مضمون کا نتیجہ ہے جو یہاں بیان ہوا ہے