خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 63 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 63

خطبات ناصر جلد ششم ۶۳ خطبه جمعه ۲۱ فروری ۱۹۷۵ء نے یہ نہیں سکھایا کہ وہ اگر نیچے نہ جاسکیں تو او پر پھیل جائیں اور اپنی غذا کو اوپر سے لے لیں۔بہر حال یہاں جو درخت ہو جاتے ہیں ان میں سے ایک بڑا صحت مند درخت ہے جو کہ بڑا فائدہ مند بھی ہے وہ ہے یوکلپٹس۔یوکلپٹس شاخیں نکال کے بہت زمین گھیر تا ہے لیکن اگر آپ قریب قریب لگا دیں تو شاخیں کم نکلیں گی اور تنا موٹا ہو جائے گا بیچ کا اور اوپر چلا جائے گا۔اس کام کے لئے ماہرین جنگلات نے ہمیں مشورہ دیا ہے کہ یہ درخت پانچ فٹ پر بھی لگایا جا سکتا ہے۔اگر پانچ پانچ فٹ پر درخت لگائیں اور آپ کے پاس ۱۰ × ۰افٹ جگہ ہو جس کا مطلب ہے کہ دو تین چار پائیوں کی جگہ تو تین درخت ایک طرف اور تین ایک طرف تو نو درخت اس جگہ میں لگ جاتے ہیں ۱۰ × ۰ افٹ کا مطلب ہے دو تین چار پائیوں کی جگہ جس مکان میں آپ نکال لیں تو ۹ درخت لگا سکتے ہیں اور اگر آپ کے پاس ہیں فٹ جگہ ہو تو اس میں فٹ مربع میں پچیس درخت لگ جاتے ہیں پانچ پانچ درخت او پر اور یہ کوئی بڑی جگہ نہیں ہے۔یہاں کے چھوٹے مکانوں میں کم از کم نو درخت کی بلکہ اکثر میں پچیس درخت کی جگہ نکل آئے گی۔اسی طرح ایک اور درخت جسے پنجابی میں دھر یک کہتے ہیں، یہ بھی یہاں ہوتی ہے اور اس کی لکڑی بھی اچھی قیمتی ہے بہت زیادہ لکڑی نہیں ہوتی لیکن اس کے بالے دیمک نہیں ان کو کھاتی اکثر دیہات میں دھریک کے بالے استعمال ہوتے ہیں۔یہ درخت بھی پانچ فٹ پر لگایا جا سکتا ہے۔پھر شہتوت ہے، توت شہتوت نہیں۔اگر آپ دیسی توت کے پچیس درخت لگائیں وہ قسم جس کے اوپر ریشم کے کیڑے پالے جا سکتے ہیں جب وہ پانچ سال کا ہو جائے تو آپ اس پر نصف اونس ریشم کے کیڑے پال سکتے ہیں۔پانچ سال کے پچھپیں درختوں پر اور ہر سال اگر عقل وفراست سے محنت کریں تو مفت میں ہر گھر کو جو کیڑے پالے زائد آمد پانچ صد سے ایک ہزار روپیہ تک ہو جاتی ہے یہ بھی جیب خرچ سمجھ لیں۔احمدی سگریٹ تو نہیں پیتے یا مجھے یوں کہنا چاہیے کہ انہیں سگریٹ نہیں پینا چاہیے اور اس قسم کی اور عادتیں نہیں ہونی چاہئیں۔بہت سارے کام اس سے آ جاتے ہیں تو اب بھی کمایا جا سکتا ہے اور دنیا کی ضرورتیں بھی پوری کی جاسکتی ہیں اور اگر ہمارے ہر گھر میں جو ایک ہزار سے زائد ہیں اوسطاً ہمیں درخت ہوں