خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 52
خطبات ناصر جلد ششم ۵۲ خطبه جمعه ۱۴ فروری ۱۹۷۵ء کام کر رہے ہیں اور یہ اُن کی تنخواہیں ہیں، تنخواہیں تو نہیں گزارے کہنا چاہیے جو اُن کو دیئے جا رہے ہیں یہ خرچ نظارت کی مد میں مقرر ہو جائے گا لیکن جو آمد ہے وہ مجوزہ ہوتی ہے یعنی ایک تجویز ہوتی ہے جو شوری میں غور کے بعد پاس کر دی جاتی ہے۔جماعت احمدیہ کی زندگی کا یہ ثبوت ہے اور اُس کا یہ طریق رہا ہے کہ جو خرچ بندھے ہوئے ہوتے ہیں اُن میں بہت سی وجوہات کی بنا پر بعض دفعہ کمی ہو جاتی ہے لیکن جو مجوزہ آمد ہے اور بندھی ہوئی نہیں ہے۔بندھی ہوئی آمد کا مطلب یہ ہے کہ مثلاً ایک شخص جو نوکر ہے اس کی تنخواہ بندھی ہوئی ہے لیکن جماعت کی آمد تجویز کردہ ہے، بندھی ہوئی نہیں ہے۔جو بندھی ہوئی چیز نہیں ہے یعنی مجوزہ آمد ہے اس کے متعلق جماعت احمد یہ سالہا سال سے شاید پندرہ بیس سال سے یا اس سے بھی زیادہ عرصہ سے یہ خیال رکھتی چلی آرہی ہے کہ تجویز کردہ آمد سے زیادہ آمد ہوتا کہ کام رکیں نہیں اور نظام سلسلہ کو تکلیف نہ ہو اور یہ سالہا سال سے ہوتا چلا آ رہا ہے مثلاً تیس لاکھ کی جو مجوزہ آمد شوری نے پاس کی اس کے مقابلہ میں ساڑھے تیس لاکھ اصل آمد ہو گئی یا مثلاً شوریٰ نے پینتیس لاکھ کی مجوزہ آمد کا بجٹ پاس کیا اور اس کے مقابلے میں چھتیس لاکھ کی رقم جمع ہوگئی کیونکہ یہ جماعت ایک زندہ جماعت ہے اور چوکس رہ کر یہ دیکھتی رہتی ہے کہ جو اخراجات ہیں وہ تو بندھے ہوئے ہیں یہ تو نہیں ہوسکتا کہ چھ ماہ کے بعد دس مبلغوں کو فارغ کر دیا جائے گا یا مثلاً جب تعلیمی ادارے ہمارے پاس تھے تو سکولوں کے استادوں کو فارغ کر دیا جائے گا مبلغ تو بہر حال رہیں گے۔اسی طرح اشاعت لٹریچر ہے۔کتب رسالے اور پمفلٹس وغیرہ چھپتے ہیں۔ہم انہیں اپنی بساط کے مطابق چھاپتے ہیں ،ضرورت اور مانگ کے مطابق تو نہیں چھاپ سکتے لیکن بہر حال شوری اپنی بساط کے مطابق فیصلہ کرتی ہے کہ یہ یہ کام ہو گا۔پس جماعتِ احمد یہ چونکہ ایک زندہ جماعت ہے اس لئے یہ ہمیشہ اس بات کا خیال رکھتی ہے کہ جو بندھے ہوئے اخرجات ہیں اور جو کم نہیں ہو سکتے ، اُن کو پورا کرنے کے لئے جو مجوزہ آمد ہے اس سے زیادہ آمد ہوتا کہ کسی وقت بھی سلسلہ عالیہ احمدیہ کے کاموں میں سستی نہ پیدا ہو اور کام کو نقصان نہ پہنچے لیکن جس سال میں سے ہم گزر رہے ہیں یا اس سال کا جو حصہ گزر چکا ہے اور جو