خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 46 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 46

خطبات ناصر جلد ششم ۴۶ خطبہ جمعہ ۷ رفروری ۱۹۷۵ء برداشت کرنے کے مہینے تھے اور جو چیز حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ ہمیں حاصل ہوئی اُس کو ظاہر کرنے کے مہینے تھے یعنی یقین کی اس دولت کو ظاہر کرنے کے مہینے تھے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ ہم نے پائی اور یہ بڑی دولت ہے جو ہم نے پائی اور وہ یہی یقین کی دولت تھی جو ہمیں ملی۔یقین اس بات پر کہ اللہ ہے یقین اس بات پر کہ قرآن عظیم ایک نہایت ہی حسین شریعت اور ایک کامل اور مکمل ہدایت ہے۔یقین اس بات پر کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کے لئے محسن اعظم ہیں اور آپ کا مقام اس کا ئنات میں ان الفاظ میں بیان ہوا ہے کہ لَوْ لَاكَ لَمَا خَلَقْتُ الافلاک کہ اگر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو پیدا کرنا مقصود نہ ہوتا تو اس کائنات کو پیدا کرنے کی ضرورت ہی نہ تھی۔پھر تو خدا تعالیٰ کی خلق کے جلوے بھی کسی اور رنگ میں ظاہر ہوتے۔خدا تعالیٰ خالق ہے اور اس کی یہ صفت کبھی معطل نہیں ہوتی لیکن یہ کائنات جو ہماری کائنات ہے اور جس کے ساتھ ہمارا تعلق اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں رَبُّ الْعَلَمِينَ “ کہہ کر بیان کیا ہے اور جس کی تفسیر خود قرآن کریم نے یہ کی ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رَحْمَةٌ لِلْعَلَمِينَ ہیں آپ کو صرف انسانوں کے لئے رحمت نہیں کہا گیا بلکہ رَحْمَةُ العلمین کہا گیا ہے یہ ایک بڑا وسیع مضمون ہے اور یہ بہت سوچنے اور بڑی گہرائیوں میں جانے کا مسئلہ ہے۔ہرایک آدمی کو اپنی اپنی سمجھ اور استعداد کے مطابق اس کے متعلق سوچنا چاہیے۔پھر یقین اس بات پر کہ خدا تعالیٰ نے جو وعدے دیئے وہ پورے ہو کر رہتے ہیں اور یقین اس بات پر کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک یہ وعدہ دیا گیا تھا کہ آخری زمانہ میں آپ کی روحانی اولاد میں سے ایک مہدی، ایک بطل جلیل اور آپ کا سب سے زیادہ محبوب بیٹا روحانی لحاظ سے پیدا ہو گا اور وہ ایک جماعت پیدا کرے گا اور اس جماعت کو اللہ تعالیٰ یہ یقین عطا کرے گا کہ وہ اس بشارت کو بھی دوسری بشارتوں کی طرح سچا سمجھے اور غلبہ اسلام کے لئے دنیا میں ایک عظیم اور ایک حسین نمونہ قربانیوں کا اور ایثار کا پیش کرے۔اسی طرح یقین اس بات پر کہ جہاں دنیا میں ایک فساد عظیم بپا ہو چکا۔جہاں اُمت مسلمہ کو اس قسم کے فساد کا سامنا کرنا پڑا وہ فساد عظیم کہیں بھی اس سے بڑھ کر نہ قرآن کریم