خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 634 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 634

خطبات ناصر جلد ششم دو۔یہ ۱۹۶۷ ء کی بات ہے۔۶۳۴ خطبہ جمعہ ۳۱ دسمبر ۱۹۷۶ء پچھلے سال ڈنمارک سے ایک صحافی یہاں آئے ہوئے تھے وہ مجھے کہنے لگے کہ پادری تو وہاں آپ کے خلاف یہ پروپیگنڈہ کر رہے ہیں کہ آپ نے ان پر سختی کی۔سچی بات جب کڑوی لگتی ہے تو لوگ کہتے ہیں کہ جی سختی کر دی ( یہاں بھی بعض یہی کہتے ہیں ) میں نے اس صحافی کو جو دہر یہ تھا یا عیسائی تھا واللہ اعلم کیا تھا بہر حال وہ مسلمان نہیں تھا میں نے اسے کہا میں نے تو سختی نہیں کی میں نے تو ان سے یہ بات کہی تھی کہ سورۃ فاتحہ جو قرآن کریم کی ابتدا میں ایک چھوٹی سی سورۃ ہے اس سورۃ میں جو اسرار روحانی اور مذہبی علوم اور اخلاقی علوم اور اقتصادی علوم پائے جاتے ہیں بائیبل سے ان کے مقابل میں پیش کرو۔عظیم ہے قرآن کریم کی ہر سورۃ اور سورۃ فاتحہ کو سارے قرآن کا خلاصہ کہا جاتا ہے۔بائیبل میں وہ علوم نہیں ہیں۔عیسائیوں نے جو اعتراض کیا تھا اس کے جواب میں ان کو یہ کہا تھا کہ اس میں مقابلہ کرو اور انہوں نے اسے قبول نہیں کیا۔۱۹۶۷ء میں میں نے ان کو پھر مقابلہ کے لئے بلایا تھا اور آٹھ نو سال ہو گئے ہیں لیکن انہوں نے اب بھی اسے قبول نہیں کیا۔کہنے لگا اچھا یہ بات ہے تو پھر میں جا کر ان کی خبر لوں گا۔معنا “ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ دروازہ بند کیا ہے کہ کوئی شخص یہ کہے کہ جو تفسیر میں نے کی ہے اس کا مقابلہ کر کے دکھاؤ۔اگر کوئی شخص یہ کہے کہ جو تفسیر خدا تعالیٰ نے مجھے سکھائی ہے تو وہ اور بات ہے مثلاً حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے قیامت تک کے مسائل جو آگے پیدا ہونے والے ہیں قرآن کریم سے بتائے ہیں اور آپ نے آج کے مسائل تفصیلاً اور جو بعد میں ہیں ان کا بیج بیان کیا ہے۔آپ کا ایک فقرہ ایک چھوٹا سا بیج ہوتا ہے اس پر کئی آدمی کئی خطبے دے سکتے ہیں۔ان میں بہت بڑا مضمون بیان ہو جاتا ہے۔قرآن کریم نے اپنے معنوں کا بھی اعلان کیا ہے وہ لفظاً اور معناً خدا کی طرف سے ہے یعنی قرآن کے وہ معانی جن کی طرف قرآن کریم اشارہ کر رہا ہے قرآن کریم نے متعدد جگہ متعدد آیات میں اس طرف اشارہ کیا ہے کہ قرآن کریم میں قیامت تک کی ضروریات کے لئے اخلاقی اور روحانی اور ذہنی جلا کے لئے جس تعلیم کی ضرورت ہے وہ اس کے اندر موجود ہے۔یہ معنی ہیں کہ جو لفظا اور