خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 615
خطبات ناصر جلد ششم ۶۱۵ خطبہ جمعہ ۳ دسمبر ۱۹۷۶ء دنیا یعنی امریکہ کی دُنیا، یورپ کی دُنیا، روس اور چین کی دنیا جتنی اپنے خدا سے دور ہورہی ہے اتنا ہی لمبا چکر کاٹ کر اور دنیا کی تکالیف برداشت کر کے اسے واپس اسی طرف آنا پڑے گا جو اسلام کا راستہ ہے جو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شاہراہ ہے۔میں یہ بتا رہا ہوں کہ یہاں جو سہولتیں ہیں ان میں بھی کمی آگئی ہے۔جماعت نے وشغ۔مكانك کے حکم کے مطابق اللہ کی توفیق سے بڑی عمارتیں بنا ئیں جتنی ہماری بظا ہر ضرورت تھی اس سے زیادہ عمارتیں جماعت نے بنادیں مثلاً ہماری یہ عمارت جس کو جماعت نے نیو کیمپس کے نام سے پکارنا شروع کیا اور اب نیشنلائز ہوگئی ہے اس کا ۱٫۵ حصہ کالج کے کام آرہا ہے اور باقی کی عمارت کے متعلق ہم خوش تھے ، ہم سے میری مراد جماعت احمد یہ ہے ، ہم خوش تھے کہ ہم نے عمارت پر خرچ کیا اور جلسہ سالانہ کے مہمانوں کے لئے اس کا استعمال ہو رہا ہے اس سے بہتر اور کیا استعمال ہو سکتا ہے لیکن اب وہ بھی ہمارے استعمال میں نہیں رہی۔ابھی تک تو یہی فیصلہ ہے وَاللهُ اَعْلَمُ آگے کیا فیصلے ہوتے ہیں۔پس تنگی بڑھ گئی ہے لیکن جگہ کی جو تنگی ہے جو اینٹیں اور گارے اور سیمنٹ اور لوہے کی سلاخوں سے بنی ہوئی ہے۔تعمیر کی تنگی ہے اگر اس کے مقابلے میں اس سے کہیں زیادہ وسعت ہمارے اپنے رب سے پیار کرنے والے دل میں پیدا ہو جائے اور اہم مہمانوں کو اپنے گھروں میں اس طرح سمیٹ لیں جس طرح ماں بچے کو اپنے سینے کے ساتھ لگا لیتی ہے تو اس بچے کے لئے تو پھر کسی زائد چھپر کھٹ کی ضرورت نہیں رہتی۔پس جگہ کی اس تنگی کو بھی ہمارا آنے والا بھائی ہماری آنے والی بہن ، ہمارا آنے والا معصوم بچہ محسوس نہیں کرے گا۔یہ تو ہماری سوچ ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت کے بغیر تو ہم اپنے لئے سہولتیں بہم نہیں پہنچا سکتے اور خدا کے فضل اور اس کی رحمت کو جذب کرنے کے لئے ہمارے لئے سوائے دعا کے اور اس کی طرف جھکنے کے اور اپنی پریشانیاں اسی سے دور کرانے کے اور کوئی راہ نہیں۔پس جہاں تک میری آواز پہنچے ربوہ میں بھی اور باہر بھی جو تھوڑے سے دن باقی ہیں انہیں دعاؤں میں صرف کرو اور اپنے رب کریم سے کہو کہ اے خدا! دنیا ہمیں آزمانا چاہتی ہے اور آزما رہی ہے ایسا