خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 612
خطبات ناصر جلد ششم ۶۱۲ خطبہ جمعہ ۳ / دسمبر ۱۹۷۶ء کسی اور ہستی کی طرف جھکنے کی ہمیں ضرورت نہیں۔اُسی پر ہم ایمان لائے ، اس کے فضل سے اس کی معرفت کو ہم نے حاصل کیا، قرآن عظیم نے تفصیل کے ساتھ ہمیں اُس کی ذات اور اس کی صفات کا علم عطا کیا اور ہمارے دل میں اُس محسن کے لئے محبت کا ایک شعلہ روشن کیا۔اس بنیادی بات کے بعد اس وقت میں جو باتیں اس کے علاوہ کہنا چاہتا ہوں وہ جلسہ سالانہ کے متعلق ہیں۔خدا تعالیٰ کا ہر جلوہ ، اُس کی صفات کا ہر جلوہ ایک نئی شان سے آتا ہے۔اس لئے جب حالات بدلے ہوئے ہوں تو انسان کو مایوس ہونے کی بجائے اس طرف نگاہ رکھنی چاہیے کہ ان بدلے ہوئے حالات میں اللہ تعالیٰ کے پیار کے جلوے، اللہ تعالیٰ کی صفات کے جلوے، اللہ تعالیٰ کے حسن اور نور کے جلوے، ایک نئے رنگ میں ظاہر ہوں گے اور ہمارے لئے سکونِ قلب اور اطمینانِ قلب کا باعث بنیں گے۔جلسہ سالانہ کے موقع پر ہمیشہ ہی سفر کی بہت سی سہولتیں مل جایا کرتی تھیں جو اب کچھ عرصہ سے نہیں مل رہیں۔جب سہولتیں ملتی تھیں تو اُس وقت بھی اُس سہولت کو خدا سے پیار کرنے والا دل ہی سہولت سمجھتا تھا ورنہ وہ سہولت بھی کیا سہولت تھی کہ چند پیشل گاڑیاں چل پڑتی تھیں، کھچا کھچ بھری ہوئی۔ان کے اندر ہمارے مہمان سانہیں سکتے تھے تو ان کی چھتوں پر سوار ہو جاتے تھے۔یہ سہولت انہیں میٹر تھی کہ گاڑیوں کی چھتوں پر بیٹھ کر وہ اپنے مرکز میں پہنچ جائیں۔ایک پیار کرنے والا دل اسے بھی سہولت سمجھتا تھا اور جہاں وہ اور دعائیں کرتا تھا وہاں اس قسم کا انتظام کرنے والوں کے لئے بھی اس کے دل سے دعا نکلتی تھی کہ اللہ تعالیٰ انہیں احسن جزا دے۔اُس وقت جو اصل سہولت تھی وہ ایک جذبہ تھا۔یہ چیز میں نے بھی محسوس کی اور آپ نے بھی محسوس کی ہوگی کیونکہ آپ میں سے بہت سے ایسے ہیں جو جلسہ سالانہ پر بطور مہمان کے بھی آتے رہے ہیں۔ایک عجیب نظارہ ہے جس کو دیکھے پندرہ میں سال ہو چکے ہیں لیکن وہ نظارہ اب بھی میری آنکھوں کے سامنے ہے۔میں افسر جلسہ سالانہ تھا۔ایک سپیشل گاڑی چنیوٹ کی طرف سے آرہی تھی۔وہ لاہور کی تھی یا نارووال کی تھی یا پسرور کی تھی یا کسی اور جگہ کی تھی یہ تو مجھے یاد نہیں کھچا کھچ بھری ہوئی تھی ، چھت پر