خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 609
خطبات ناصر جلد ششم ۶۰۹ خطبہ جمعہ ۱۹ نومبر ۱۹۷۶ء ہیں اور ان میں سے بہت سے بعد میں احمدی بھی ہو جاتے ہیں تو اُن کا حلیہ بدل جاتا ہے صفائی کے لحاظ سے نظر پہچان لیتی ہے کہ ان کے اندر ایک تبدیلی پیدا ہوگئی ہے۔ان میں ظاہری صفائی آجاتی ہے غلاظت کوئی نہیں رہتی۔پس احباب جماعت سے میں یہ کہتا ہوں کہ وہ صاف ستھرے جسم صاف ستھرے کپڑے اور صاف ستھرے خیالات رکھیں اور پاکیزہ اور حسین عمل کی راہوں کو اختیار کریں اور خدا کی رضا کو حاصل کرنے کی کوشش کریں اور بہت دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس اجتماع پر یعنی جلسہ سالانہ پر اُن اعمال کے بجالانے کی توفیق عطا کرے جن کی وجہ سے ہماری ذمہ داریاں ادا ہو جائیں۔اگر آپ سوچیں تو ہماری بڑی ذمہ داریاں ہیں لیکن میں اس لمبی تفصیل میں اس لئے نہیں جا سکتا کہ میں اس وقت بھی کمزوری محسوس کر رہا ہوں۔انفلوئنزا اپنے پیچھے بہت کمزوری چھوڑ جاتا ہے لیکن کئی دفعہ پہلے کہا جا چکا ہے، میں نے بھی کہا ہے، میرے بزرگوں نے بھی آپ کو ان باتوں کے متعلق کہا۔زندگی رہی اور خدا نے توفیق دی تو میں بھی پھر آپ کو انشاء اللہ تفصیل سے بھی بتاؤں گا لیکن مختصراً یہ کہ خدا تعالیٰ سے دعا مانگو کہ ایسے اعمال کی توفیق ملے کہ وہ آپ سے خوش ہو جائے۔۔۔۔۔۔۔اور اس لئے بھی خوش ہو کہ خدا تعالیٰ اہلِ ربوہ سے جلسہ سالانہ کے موقع پر جس قسم کے عمل کی توقع رکھتا ہے اور جس حسن معاملہ کا وہ حکم دیتا ہے اس کے مطابق خدا کرے آپ کی زندگی کے یہ دن بھی دعاؤں سے معمور گزریں۔خدا تعالیٰ کی رحمتوں سے آپ کی جھولیاں بھری رہیں اور ظاہری طور پر بھی ربوہ کو صاف کر دیں۔اس کے لئے یہاں کی جو مجلس عمومی ہے اُن کو ہدایت کرتا ہوں کہ وہ اس طرف توجہ کریں اور نو جوان بچے اور بڑے سب کو اکٹھے کر کے وقار عمل کروائیں۔چھوٹے چھوٹے گروپس میں بھی اور بڑے بڑے گروپس میں بھی ، جہاں بھی ضرورت ہو اس کے مطابق وقار عمل کروائیں۔ربوہ کی بہر حال صفائی ہونی چاہیے۔ہماری دعا ہے اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہی ہمیں اس بات کی توفیق دے کہ ہم کبھی بھی اپنے آپ کو بزرگ اور متقی اور پرہیز گار نہ سمجھیں اور نہ اس کا اعلان کریں۔روزنامه الفضل ربوه ۱۵ جنوری ۱۹۷۷ ء صفحه ۲ تا ۴ )