خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 608
خطبات ناصر جلد ششم ۶۰۸ خطبہ جمعہ ۱۹ نومبر ۱۹۷۶ء دفاتر ہیں یا ہسپتال ہے وغیرہ وغیرہ ان میں سے بعض میں بھی گند نظر آتا ہے اور پوری صفائی نظر نہیں آتی۔ان کو تو چاہیے کہ یا تو وہ خود صفائی کریں، نہیں تو پھر میں اپنے چند دوستوں کے ساتھ وہاں آ جاؤں گا اور ہم صفائی کریں گے۔صفائی تو بہر حال ہونی چاہیے کیونکہ طہارتِ باطنی اور طہارتِ ظاہری یعنی ظاہری پاکیزگی ہر دو کے متعلق اسلام نے اجتماعات کے موقع پر خاص طور پر تاکید کی ہے۔ویسے تو ایک مومن مسلم کی زندگی اس پاکیزگی اور طہارت کے بغیر تو زندگی ہی نہیں۔یہ درست ہے کہ خدا تعالیٰ نے یہ تو کہالا تُرَكُوا أَنْفُسَكُمُ (النجم : ۳۳) کہ جہاں تک اس پاکیزگی کا سوال ہے روحانی اور باطنی پاکیزگی کا خود شیخی میں آکر دعوی نہ کیا کر ولیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقَى (النجم : (۳۳) کہ خدا تعالیٰ تو جانتا ہے کہ اس کی نگاہ میں متقی اور پر ہیز گار کون ہے اور جو چیز خدا جانتا ہے وہ خدا ہی سے مانگنی چاہیے خدا سے دعا کرنی چاہیے کہ اے خدا! تو ایسے کام کی ہمیں توفیق عطا کر کہ تیری نگاہ میں ہم متقی ٹھہریں اور پاکیزہ قرار دیئے جائیں اور تیرا معاملہ ہم سے اُس قسم کا ہو جیسا کہ تیرا معاملہ اپنے پاک مقدسین سے ہوا کرتا ہے۔بغیر دعا کے اور بغیر حسن عمل کے یہ چیز نہیں مل سکتی۔محض دعا جس کے پیچھے کوشش اور تدبیر نہ ہو وہ بھی بے معنی ہے اور کوشش اور تدبیر ہو اور دعا نہ ہو اور انسان سمجھے کہ میں اپنی ہی طاقت کے ساتھ خدا تعالیٰ کی قدرت کو حاصل کر سکتا ہوں اس سے زیادہ احمقانہ کوئی تخیل نہیں ہوسکتا۔اپنے زور اور طاقت سے خدا سے وہی کچھ حاصل کرنے کی کوشش کر سکتا ہے جو نعوذ باللہ کوئی دماغ پھرا یہ سمجھے کہ وہ خدا سے زیادہ طاقتور ہے۔اپنے سے زیادہ طاقتور انسان سے بھی تم زبر دستی کوئی چیز حاصل نہیں کر سکتے تو خدا تعالیٰ سے کیسے کر سکتے ہو اس کے لئے تو اسی سے مانگنا پڑے گا۔اسی کے سامنے جھکنا پڑے گا۔اس کے بغیر خدا کا پیار اور اس کی رضا حاصل نہیں ہو سکتی اور خدا تعالیٰ نے کہا ہے کہ ظاہری صفائی بھی کرو اس لئے ظاہری صفائی کی طرف بھی خاص طور پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔میں نے کہا ہے کہ ربوہ کی ظاہری صفائی کرو۔ربوہ میں ربوہ کے مکین سڑکوں پر چلنے والے بھی ہیں۔اس لئے ساتھ ہی میں نے یہ بھی کہا ہے کہ کبھی بھی کسی احمدی کو گندے کپڑوں میں اور غلیظ ہیئت کذائی میں سامنے نہیں آنا چاہیے۔اب ربوہ میں بڑی کثرت سے لوگ باہر سے آرہے۔