خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 593
خطبات ناصر جلد ششم ۵۹۳ خطبه جمعه ۵ /نومبر ۱۹۷۶ء کے لئے جاری کیا ہے اس لئے اس کی اصل غرض کو مد نظر رکھ کر جس حد تک ممکن ہو ان لوگوں کی بھی خدمت کرو جن کا تعلق عقیدہ کے لحاظ سے جماعت احمدیہ کے ساتھ نہیں۔چنانچہ ہر عقیدہ اور ہر خیال کے نو جوان بچے ہمارے کالج میں پڑھتے رہے ہیں کالج سے وظیفہ لے کر۔اور کبھی اُن پر کسی قسم کا ہلکا سا بھی مذہبی لحاظ سے دباؤ نہیں ڈالا گیا بلکہ ۱۹۵۳ء میں کچھ نوجوان ایسے تھے جن کو کالج ہر قسم کی سہولتیں دے رہا تھا لیکن جو آگ اُس وقت لاہور میں لگی ہوئی تھی ( تعلیم الاسلام کالج اس وقت لاہور میں تھا ) اس میں بھی وہ شامل ہو جاتے تھے۔جب میرے پاس ان کی شکایت پہنچی تو شکایت کرنے والے کو بڑا غصہ تھا میں نے اسے کہا دیکھو! یہ کالج اس لئے تو نہیں کھولا گیا کہ جماعت کی اس سے تبلیغ کی جائے گی یہ کالج قوم کی تعلیمی اغراض کے لئے کھولا گیا ہے۔جن لڑکوں کی تم شکایت کر رہے ہو ان کو ہم مالی سہولتیں اس لئے دے رہے ہیں ایک یہ کہ وہ تعلیم میں اچھے ہیں اور دوسرے یہ کہ مالی لحاظ سے وہ غریب ہیں اور اپنے وسائل سے اور اپنے پیسے سے وہ تعلیم حاصل نہیں کر سکتے اس لئے ہم ان کو وظیفہ دیتے ہیں۔دراصل شکایت کرنے والے کا مطالبہ یہ تھا کہ ان کا وظیفہ اور دیگر سہولتیں بند کر دی جائیں۔میں نے کہا نہیں ایسا نہیں ہوسکتا۔اگر تم یہ کہو کہ یہ تعلیم میں کمزور ہو گئے ہیں اور میں جانتا ہوں کہ وہ کمز ور نہیں تو پھر تو کوئی بات ہے۔ہاں اگر تم یہ کہو کہ یہ بڑے امیر ہو گئے ہیں اور اب ان کو پیسے کی ضرورت نہیں تو پھر تو سوچنے کی بات ہے لیکن جن وجوہات پر ان کو سہولتیں دی گئی تھی اگر وہ وجوہ اسی طرح قائم ہیں تو آج ان کو دی گئی سہولتیں چھینی نہیں جاسکتیں۔پھر میں نے ان لڑکوں کو بلایا اور کہا دیکھو! جہاں تک مذہب کا تعلق ہے تم میرے سامنے جواب دہ نہیں ہو اس لئے جو بھی تمہارا عقیدہ ہے اور تمہارے نزدیک جو بھی اس کا تقاضا ہے اگر تم اس کو پورا کرتے ہو تو میں اس میں حائل نہیں ہوں گا کیونکہ تم میرے سامنے جواب دہ نہیں ہو۔صرف اتنی نصیحت ضرور کروں گا کہ جس اللہ کے سامنے تم جواب دہ ہو اس کے سامنے جواب دہی کے لئے تیار ہو کر کام کیا کرو اور خدا تعالیٰ کو بھولا نہ کر ولیکن چونکہ تم ہوسٹل میں رہتے ہو اس لئے جہاں تک کالج کے قوانین کا سوال ہے تم میرے سامنے جوابدہ ہو۔کالج کا قانون کہتا ہے کہ فلاں وقت کے بعد ہوٹل سے غیر حاضر نہ رہو اس لئے تم غیر حاضر نہ رہا کرو۔