خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 592 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 592

خطبات ناصر جلد ششم ۵۹۲ خطبه جمعه ۵ /نومبر ۱۹۷۶ء ربوہ کے مکانوں کی تعداد اس نسبت سے نہیں بڑھی جس نسبت سے کہ اگر یہ حالات پیدا نہ ہوتے تو بڑھ جاتی لیکن مہمان پہلے کی نسبت زیادہ آنے لگے ہیں اور جو دوست پاکستان میں ربوہ سے باہر بسنے والے ہیں اور یہاں جلسہ پر آتے ہیں مہدی علیہ السلام کے مہمان کی حیثیت سے اور وہ دوست جو بیرونی ممالک سے یہاں تشریف لاتے ہیں مہدی علیہ السلام کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے ان کے لئے رہائش کا انتظام کرنا اہل ربوہ کا کام ہے صرف منتظمین جلسہ کا کام نہیں ہے کیونکہ منتظمین کو مکانیت کے کچھ حصے تو ایسے ملتے ہیں جو جماعت کے قبضے میں ہیں اور جلسہ کے ایام میں جماعت ان مکانوں کو خالی کر دیتی ہے اور وہ جلسہ کے مہمانوں کے کام آتے ہیں۔جماعت کی جو عمارتیں تھیں اور جلسہ پر خالی کی جایا کرتی تھیں ان میں سے ایک بہت بڑا حصہ سکولوں اور کالجوں سے تعلق رکھنے والا تھا جو قومیا لئے گئے اور اب وہ جماعت کی ملکیت نہیں رہے اور نہ جماعت کے انتظام میں رہے بلکہ انتظام جماعت سے بھی نکل گئے اور ان کی ملکیت بھی جماعت کی بجائے حکومت کی ہو گئی۔جس طرح ہمارے دوسرے شہری بھائیوں نے حکومت کے اس منصو بہ کو کامیاب کرنے کے لئے اپنے پرائیویٹ ادارے یعنی نجی تعلیمی ادارے قومیائے جانے کے فیصلہ کے بعد حکومت کے سپرد کئے اسی طرح ہم نے بھی اپنے تعلیمی ادارے حکومت کو دے دیئے اس وقت کچھ لوگوں نے برابھی منا یا کچھ لوگوں کی طبیعت میں انقباض بھی پیدا ہوالیکن انہوں نے اپنے تعلیمی ادارے حکومت کے سپرد کئے جب کہ جماعت احمدیہ نے خوشی اور بشاشت سے تعلیمی ادارے اور ان کی عمارتیں جن کی مالیت ( میں صرف ربوہ کے تعلیمی اداروں کی بات کر رہا ہوں ) کروڑوں روپے کی ہے وہ حکومت کے سپر د کر دیئے کیونکہ جماعت احمدیہ کی تعلیمی میدان میں ہمیشہ ہی یہ پالیسی رہی ہے کہ جماعت نے جو سکول اور کالجز کھولے وہ قوم کی خدمت کے لئے تھے اور ایسے بھائیوں کی تعلیمی خدمت کے لئے تھے جو تعلیم میں پیچھے تھے۔غرض تعلیمی ادارے قومی خدمت کے لئے کھولے گئے تھے اس کے علاوہ ان کی اور کوئی غرض نہیں تھی۔میں ایک لمبا عرصہ تعلیم الاسلام کالج کا پرنسپل رہا ہوں۔مجھے حضرت امصلح الموعودرضی اللہ عنہ کی یہ تاکیدی نصیحت تھی کہ ہم نے کالج تبلیغی اغراض کے لئے جاری نہیں کیا بلکہ قوم کی خدمت