خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 571 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 571

خطبات ناصر جلد ششم ۵۷۱ خطبه جمعه ۲۲/اکتوبر ۱۹۷۶ء ٹرینڈ کیا جاتا ہے اور اُن کی بڑی سخت ٹریننگ ہوتی ہے اُن میں احمدی بھی تھے چنانچہ دو احمد یوں نے چھٹی لی اور وہ وہاں پہنچ گئے اور ساری رات موٹر میں بیٹھے رہے۔وہاں بڑی آزادی ہے میں نے بتایا ہے وہ بڑا آزاد ملک ہے اس لئے وہ پورے طور پر ہتھیار بند بھی تھے اور موٹر میں بیٹھے ساری رات پہرہ دیتے رہے۔اب کیا میں اس قسم کی محبت جو ساری دنیا کے احمدیوں کے دلوں میں پیدا ہوتی ہے خلافت سے، یہ بازار سے خرید سکتا ہوں یا میری کسی کوشش یا خوبی کے نتیجہ میں پیدا ہو سکتی ہے؟ سوائے اللہ تعالیٰ کے فضل کے اس کی اور کوئی وجہ نہیں۔صرف اپنے نہیں بلکہ وہاں غیروں کی طبیعت پر بھی یہ اثر ہے میں تو اپنے رنگ میں سوچتا ہوں کہ خدا کی شان ہے کہ میرے جیسے عاجز انسان کے ساتھ خدا تعالیٰ یہ سلوک کرتا ہے ڈیٹن سے بہت سارے عیسائی وغیرہ آئے ہوئے تھے۔استقبالیہ دعوت میں اُن سے بہت سی باتیں ہوتی رہیں اسلام کی تعلیم کے متعلق کہ اسلام یہ تعلیم دیتا ہے کہ انسان کو چاہیے وہ ایک دوسرے سے پیار اور محبت کرے انسان ایک دوسرے کی خدمت کرے۔انسان سے پیار کا سلوک کرے ایک دوسرے سے بغض نہ رکھے وغیرہ وغیرہ۔دو شخص وہاں سے نکل رہے تھے ایک امریکن احمدی نے بتایا کہ میں نے سناوہ آپس میں باتیں کر رہے تھے دونوں غیر مسلم تھے وہ کہہ رہے تھے کہ جس قسم کی باتیں اس شخص نے کی ہیں بڑا ہی لعنتی ہو گا وہ شخص جو اب بھی اس سے پیار نہ رکھے۔اب وہ باتیں میں نے اپنی بنا کے تو نہیں کیں اس وقت ساری دنیا میں جماعت احمدیہ کا جو اثر پھیل رہا ہے اور جو محبت جماعت احمدیہ کی پیدا ہو رہی ہے وہ اس لئے ہے کہ مہدی علیہ السلام نے تمام بدعات سے پاک کر کے اسلام کی صحیح تعلیم اُن تک پہنچائی اور محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا سچا عشق اُن میں پیدا کیا۔میں نے افریقہ میں بتایا تھا کہ کیا حالت تھی اُن کی۔میں نے وہاں بڑا سوچا کہ آخر احمدیت سے یہ پیارکس طرح ہوا کیوں؟ ہوا تو مجھے یہ سمجھ آئی کہ چونکہ اُن کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حسین اور نورانی چہرے سے پہلی دفعہ جماعت احمدیہ نے متعارف کروایا ہے اس لئے یہ جماعت سے بھی پیار کرتے ہیں۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا پیار جو دل میں پیدا ہوا اس کے نتیجہ میں جماعت کا پیار دل میں پیدا ہوا اور یہ جماعت کی اپنی کوئی خوبی نہیں ہے بلکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت مؤثر ہو گئی۔یہی حال اب