خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 566 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 566

خطبات ناصر جلد ششم خطبه جمعه ۲۲/اکتوبر ۱۹۷۶ء میں بتا یہ رہا ہوں کہ ہمیں اسرائیل سے پیسے کی ضرورت نہیں اور نہ نصرانیت کا پیسہ ہماری غیرت قبول کرتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے بڑا ہی بے غیرت ہے وہ مسلمان جوان کا دودھ لے کر پینا شروع کر دے اور ان کی گندم کھانی شروع کر دے۔اللہ ہمیں محفوظ رکھے اور یہ اس وقت کہا تھا جب انہوں نے گندم اور آٹا اس طرح تقسیم کرنا بھی شروع نہیں کیا تھا۔پس ہماری دولت اللہ ہے لَهُ الْمُلْكُ (فاطر : ۱۴) ہر دو جہان اس کے قبضہ قدرت میں ہیں اور اس کی جو مخلوق ہے وہ اس کے قبضہ میں ہے اور وہ اس کا مالک ہے۔وہ اپنی برکتوں کے نتیجہ میں ہمارے لئے سامان پیدا کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہمارے لئے اس دولت کا سامان ایک مومن مخلص سینہ میں دھڑکنے والے دل میں پیدا کرتا ہے اور اس کو کہتا ہے کہ وہ جا کر دے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔يَنْصُرُكَ رِجَالٌ نُّوْحِيَ إِلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَاءِ تیری مدد کو وہ لوگ آئیں گے جن کو ہم آسمانوں سے کہیں گے کہ جاؤ ان کی مدد کرو۔اب جیسا کہ میں نے پہلے بتایا ہے جب میں نماز سے باہر نکلا اور جس دوست نے کہا یہ لیں ہزار روپے کا وعدہ اور اگلے دن اس نے چیک دے دیا۔اس کو میں نے تو نہیں جا کر کہا تھا کہ دے۔میں نے تو کبھی کسی کو نہیں کہا میں تو جماعت کو کہا کرتا ہوں اپنی فکر کرو اگر کرنی ہے اور صرف پیسے نہ دو۔۱۹۷۰ء میں میں نے کہا تھا کہ مجھے پیسوں کی فکر نہیں۔مجھے پتہ ہے کہ جماعت بڑی قربانی کر رہی ہے لیکن مجھے اس بات کی فکر ہے کہ بعض لوگوں کی قربانیاں قبول نہیں کی جاتیں رد کر دی جاتی ہیں اور خدا منہ پر مارتا ہے کہ لے جاؤ میں نے تمہارے گندے مال کو لے کر کیا کرنا ہے جو اخلاق سے عاری اور ریا اور نفاق سے بھرا ہوا ہے۔تو دعائیں کرو کہ خدا تعالیٰ ان قربانیوں کو قبول کرے۔ہمیشہ عاجزانہ دعائیں کرتے رہنا چاہیے باقی خدا تعالیٰ جو مالک الکل ہے اس کے خزانے بھرے ہوئے ہیں۔وہ جتنا قربانی کے رنگ میں لیتا ہے اس سے کہیں زیادہ واپس بھی کرتا ہے یہ تو روز مرہ ہماری زندگی میں مخلصین کی زندگی میں یہ نظارے نظر آتے ہیں۔مخلصین جماعت نے خدا کی راہ میں قربانیاں دیں اور خدا تعالیٰ نے ان