خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 525
خطبات ناصر جلد ششم ۵۲۵ خطبہ جمعہ ۳۰/ جولائی ۱۹۷۶ء کبریائی کے لئے ہم نے اُس کی آواز پر لبیک کہی۔کس حد تک ہم نے اس عہد بیعت کو نبھا یا۔تو ہی بہتر جانتا ہے ہم کمزوریوں کے پتلے ہیں ہماری عاجزانہ پکا رکوشن اور ہمارے قصور معاف کر اور ہماری بد یاں ہم سے مٹادے اور ہمیں اس گروہ میں شامل کر جو تیری نگاہ میں نیک اور پاک ہے۔اور اے ہمارے رب ! اے سر چشمہ عنایات بے پایاں! تیری طرف سے آنے والی ہر خیر کے ہم بھوکے اور فقیر ہیں۔اے ہمارے رب! ہمیں وہ سب کچھ دے جس کا تو نے ہم سے اپنے رسولوں کی زبان پر وعدہ کیا ہے اور جب جزا کا دن آئے تو ہم تیری نظروں میں ذلیل نہ ٹھہریں۔دیکھنے والے دیکھیں اور سمجھنے والے سمجھیں کہ جو تیری راہ میں دکھ اٹھاتے اور سختیاں جھیلتے ہیں اور جن کو ذلیل کرنے اور ہلاک کرنے میں دنیا کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھتی وہی تیرے پیار کو پاتے ہیں اور عِبَادُ اللهِ الْمُكْرَمُونَ میں شامل کئے جاتے ہیں۔(اے ہمارے رب!) ہم نے کوشش کی کہ ہم تیرے لئے اپنے نفسوں کی خواہشات اور ماحول کی کشش اور دنیا کی زینت سے کنارہ کش ہو جائیں اور ہم تیری راہ میں ستائے گئے اور ذلیل کئے گئے اور ہم نے تیری راہ میں رسوائیاں اُٹھا ئیں اور ماریں کھائیں اور جائیدادیں لٹوا ئیں لیکن ہلاکت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ہم نے محبت کے اُس شعلہ کو اور بھی روشن کیا جو تیرے لئے ہمارے دلوں میں موجزن ہے لیکن یہ تو ہماری سمجھ ہے اور ہوسکتا ہے کہ ہماری سمجھ کا قصور ہو ہم تیرے خوف سے لرزاں ہیں۔ہماری روح تیرے جلال سے کانپ رہی ہے۔تیری عظمت اور کبریائی نے ہمارے درخت وجود کو جھنجوڑ کر رکھ دیا ہے۔اے ہمارے رب! ہماری کمزوریوں ، ہستیوں ، غفلتوں ، کوتاہیوں ، خطاؤں اور گناہوں نے ہماری نیکیوں کو دبا دیا ہے۔مغفرت ! مغفرت !! اے رب غفور ! مغفرت کی چادر تلے ہمیں چھپالے۔ہمارے ہاتھ نیکیوں کے پھول اور اعمالِ صالحہ کے ہار تیرے قدموں پر نچھاور کرنے کے لئے نہیں لا سکے تہی دست ہم تیرے قدموں پر گرتے اور تیری رحمت کی بھیک مانگتے ہیں اے ہمارے رحمن ! ان تہی ہاتھوں کو اپنی رحمت سے ید بیضا کر دے۔تیرا جمال اور محمد کا حسن دنیا پر