خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 524 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 524

خطبات ناصر جلد ششم ۵۲۴ خطبہ جمعہ ۳۰/ جولائی ۱۹۷۶ء ہم ایمان رکھتے ہیں کہ وہ ہر چیز کا مالک ہے اور اس نے ہر چیز کو انسان کی خدمت میں لگا رکھا ہے اُس نے انسان پر اپنے فضلوں کو خواہ وہ مرئی ہوں یا غیر مرئی کمال تک پہنچایا ہے۔ہم ایمان رکھتے ہیں کہ وہ رب العلمین ہے یعنی وہی ہے جو ہر شے کو قیام بخشتا ہے اور نہ صرف قیام بخشتا ہے بلکہ اسے درجہ بدرجہ ترقی دیتا اور اسے اس کے کمال تک پہنچاتا ہے۔ایسے ہمہ قدرت اور ہمہ طاقت خدا نے جس پر ہم ایمان لائے ہیں ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم اپنے اعمال پر صفات الہیہ کا رنگ چڑھائیں اور اس طرح اُس کی صفات کے مظہر بنیں اُس نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم اس کی صفات کا مقدس رنگ اپنے پر چڑھا کر اُس کی مخلوق کے ساتھ محبت اور شفقت سے پیش آئیں اور اس امر کا اہتمام کریں کہ ان کی صلاحیتیں نشو و نما پا کر اپنے کمال کو پہنچیں۔چونکہ ہم رب العلمین کے بندے ہیں اس لئے ہمیں کسی سے دشمنی نہیں ہے اور نہ ہوسکتی ہے ہم سب کے دل سے ہمدرد اور خیر خواہ ہیں اور ان کی بھلائی کے لئے کوشاں رہنا اور امن وسلامتی کے سامان کرنا ہمارا مقصد ہے لیکن ہم کمزور ہیں اور رب العلمین کے عاجز بندے ہیں اس لئے ہم اُسی سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں ہمت اور توفیق عطا کرے تا کہ ہم اُس کی صفات کے رنگ میں رنگین ہو کر اُس عظیم مقصد میں کامیاب ہو سکیں۔میں اس خطبہ کو اللہ تعالیٰ کے حضور دعا پر ختم کرتا ہوں۔یہ دعا ان دعاؤں سے ماخوذ ہے جو میں نے اپنے رب کے حضور مانگیں اور جو حال ہی میں کتابی شکل میں شائع ہوئی ہیں۔دعا یہ ہے کہ ”اے ہمارے رب ! تو ہر نقص سے پاک ہے۔پیدائش عالم بے فائدہ اور بے مقصد نہیں۔اے ہمارے رب ! ہماری زندگی کو بے مقصد بنے سے بچالے اور اپنے غضب کی آگ سے تو اپنی پناہ میں لے لے۔اے ہمارے رب! تیرے نام پر ایک پکارنے والے نے ہمیں پکارا اور تیری رضا کے حصول کے لئے ہم نے اُس کو قبول کیا، اُس کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر تیرے نام کی عظمت اور