خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 519 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 519

خطبات ناصر جلد ششم ۵۱۹ خطبہ جمعہ ۲۳ جولائی ۱۹۷۶ء ہے لیکن مالی قربانی ہی تو کافی نہیں اسی لئے خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں مال یا جان کا اتنا مطالبہ نہیں کیا جتنا کہ زندگی کا مطالبہ کیا ہے۔اس نے کہا ہے کہ نہ مجھے تمہارے مال کی چنداں ضرورت ہے اور نہ تمہاری جان کی ہی ضرورت ہے میں یہ چاہتا ہوں کہ تم پوری زندگی میری راہ میں وقف کر دو۔حضرت ابراھیم اور حضرت اسمعیل علیہما السلام خواب کے ذریعہ ایک خدائی اشارہ پر جان قربان کرنے کے لئے تیار ہو گئے تھے۔خدا تعالیٰ نے کہا میں تم سے جان نہیں مانگتا بلکہ اس سے بھی بڑا ایک فدیہ مانگتا ہوں اور وہ ہے اپنی پوری زندگی کو میری راہ میں وقف کرنا۔چنانچہ نہ صرف اُنہوں نے بلکہ ان کی نسلوں نے اپنی زندگیاں خدا کی راہ میں وقف کر دکھائیں اور وہ زندگی بھر بڑی بڑی تکلیفیں اپنے پر وار د کر کے خدمت دین کا فریضہ ادا کرتے چلے گئے۔حضور نے فرمایا اس وقت ایک عظیم جد و جہد جاری ہے ایک طرف خدا تعالیٰ ہم سے دین کی سر بلندی کی خاطر اپنی زندگیاں وقف کرنے اور کرتے چلے جانے کا مطالبہ کر رہا ہے اور دوسری طرف دنیا انسان کو خدا تعالیٰ سے دور لے جانے میں کوشاں ہے۔اس عظیم جدوجہد کے وقت اللہ تعالیٰ نے ایک چھوٹی سی غریب جماعت کو توفیق دی ہے کہ وہ خدمتِ اسلام کے لئے قربانیاں پیش کرتی چلی آرہی ہے اور اس نے خدمتِ اسلام کو اپنا مقصد عظیم قرار دے رکھا ہے۔اس میں شک نہیں قربانیاں بھی عظیم ہیں جن کا ہم سے مطالبہ کیا جارہا ہے لیکن انعام بھی بہت عظیم ہے جس کا ہم سے وعدہ کیا گیا ہے۔پھر یہی نہیں بلکہ خدا تعالیٰ ہمیں ساتھ کے ساتھ اپنے انعاموں سے نواز رہا ہے۔مثال کے طور پر ستمبر ۱۹۷۴ء کے بعد بعض علاقوں میں اللہ تعالیٰ نے ایسی رو چلائی ہے کہ وہاں اب تک ہزاروں گھرانے احمدی ہو چکے ہیں اور جو احمدی ہوئے ہیں وہ دن بدن ایمان اور اخلاص میں پختہ سے پختہ تر ہوتے چلے جا رہے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ انسان تھوڑی سی قربانی کرتا ہے اس کے جواب میں خدا تعالیٰ اپنی پوری کائنات اور اپنی پوری صفات کے ساتھ اس کی طرف دوڑا چلا آتا ہے پھر خدا اپنے بندے کو اس قدر نوازتا ہے کہ عام محاورہ کی رُو سے حد کر دیتا ہے یہ سب صلہ ہوتا ہے معمولی سی قربانی کا سو گویا انسان خدا کی خاطر تھوڑی سی تکلیف اُٹھاتا ہے اور خدا تعالیٰ اس کے