خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 513 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 513

خطبات ناصر جلد ششم ۵۱۳ خطبہ جمعہ ۲۳ / جولائی ۱۹۷۶ ء اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اپنے فضل سے غیر معمولی قربانیاں کرنے والی جماعت عطا کی خطبہ جمعہ فرموده ۲۳ / جولائی ۱۹۷۶ء بمقام مسجد فضل - لندن (خطبہ جمعہ کا خلاصہ ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔ہمارا رب اللہ اس قدر عظمت، کبریائی اور جلال والا ہے کہ انسانی ذہن اُس کی عظمت و کبریائی اور جلالت شان کا تصور نہیں کر سکتا۔اللہ تعالیٰ نے اپنی غیر محدود صفات اور قدرتوں میں سے بعض صفات کا ذکر فرمایا ہے جن سے ہمیں اُس کی عظمت اُس کے جلال اور اُس کی کبریائی کا کسی قدر اندازہ ہوتا ہے ان میں سے اس کی دو صفات اُس کا الحی اور القیوم ہونا ہے۔الحی کے معنے یہ ہیں کہ وہ اپنی ذات میں ہمیشہ سے زندہ ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گا پھر یہی نہیں کہ وہ خود زندہ ہے بلکہ ہر ذرہ کائنات اور ہر ذی روح میں جوزندگی نظر آتی ہے وہ اُسی کی عطا کردہ ہے وہ خود ہی زندہ نہیں بلکہ ہر ذی روح کی زندگی کا موجب اور علت العلل بھی ہے پھر وہ القیوم ہونے کی وجہ سے خود اپنی ذات میں ہی قائم نہیں ہے بلکہ ہر چیز جو اس کی اپنی پیدا کردہ اور مخلوق ہے اس کے قیام کا بھی وہی موجب ہے اور اگر اس کا ئنات اور اس کے ہر ذرہ کا الحی اور القیوم کے ساتھ تعلق نہ رہے يَا حَنُ وَقَیوم خدا ایک لحظہ کے لئے اپنا سہارا ہٹالے تو پوری کائنات