خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 506
خطبات ناصر جلد ششم خطبہ جمعہ ۱۶؍جولائی ۱۹۷۶ء ملک کی اکائیاں مل کر بین الاقوامی معاشرہ پیدا کرتی ہیں اور بین الاقوامی معاشرہ کے اندر بہت اصلاح کی ضرورت ہے جیسا کہ ہر بیدار مغز انسان جانتا ہے دنیا میں کبھی کسی جگہ فساد پیدا ہو رہا ہے اور کبھی کسی جگہ فساد پیدا ہورہا ہے اور انسان کو یہ مسئلہ ابھی سمجھ میں نہیں آیا کہ ایک خاندان اور ایک برادری کی طرح زندگی اور معاشرہ کو قائم کر کے ان تمام مسائل کو حل کرنا چاہیے بلکہ جس وقت انسان بین الاقوامی سطح پر اٹھا تو اس نے اپنے لئے نیشنلزم سے زیادہ مسائل پیدا کر لئے۔ہماری یہ دعا ہے کہ خدا تعالیٰ انسان کو بحیثیت انسان یہ توفیق دے کہ وہ ایک دوسرے سے پیار کرنے لگے۔پیار نہ ہونے کی وجہ سے اور ایک دوسرے سے پیار نہ کرنے کے نتیجہ میں دنیا میں خرابیاں پیدا ہو رہی ہیں اور بعض جگہ کبھی افریقہ میں کبھی امریکہ کے بعض حصوں میں ، کبھی یورپ میں ،کبھی ایشیا میں کبھی جزائر میں انسان دیکھی ہو جاتا ہے۔دنیا میں جہاں بھی انسان دکھی ہوتا ہے میں اپنے آپ پر بھی قیاس کرتا ہوں اور یہ کہتا ہوں کہ ہر احمدی کا دل دکھی ہو جاتا ہے اور اسے تکلیف محسوس ہوتی ہے۔ان کے دکھوں کو دور کرنے کا ہمارے پاس اور کوئی مداوا نہیں سوائے اس کے کہ ہم ان کے دکھوں کے دور ہونے کے لئے اپنے خدا کے حضور جھکیں اور اس سے دعائیں کریں۔احمد یوں کو دعا کے میدان میں بین الاقوامی سطح پر انسان کے لئے بحیثیت انسان دعا ئیں کرنی چاہئیں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ دیا تھا کہ آخری زمانہ میں نوع انسانی ایک خاندان بن کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع ہو جائے گی۔ہم احمدی یہ یقین رکھتے ہیں کہ یہی وہ زمانہ ہے۔پس ہمارے اوپر بڑی ذمہ داریاں ہیں اور دنیوی اور مادی لحاظ سے ہم بڑے کمزور اور بے بس اور بے سہارا ہیں لیکن وہ جس نے کہا ہے کہ ایسے اوقات میں میرا سہارا لینا وہ بڑی قدرتوں والا اور بڑی طاقتوں والا اور زبردست بادشاہت والا اور اپنے عظیم عزم کا مالک ہے اور اس دنیا میں اسی کا امر اور حکم چلتا ہے لیکن اس رنگ میں اس کا حکم چلانے کے لئے جس کے متعلق کہ اس کے وعدے ہیں اس نے ہم پر کچھ ذمہ داریاں ڈالی ہیں اگر ان ذمہ داریوں کو ہم ادانہ کریں تو وعدے تو پورے ہوں گے لیکن کچھ اور نسلیں آئیں گی کچھ اور قو میں آئیں گی جو ان وعدوں کو پورا کرنے کے لئے قربانیاں دیں گی اور خدا تعالیٰ کے فضلوں اور اس کی نعمتوں کی