خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 505
خطبات ناصر جلد ششم خطبہ جمعہ ۱۶؍جولائی ۱۹۷۶ء بلکہ وہ ہر ایک کی خیر خواہی اور بھلائی چاہتا ہے اور ایک دل جو ہر ایک کی خیر خواہی اور بھلائی چاہنے والا ہے اور اسے یہ بھی علم ہے کہ تدبیر اور دعا کے ساتھ اپنے اس مقصد کو وہ بہترین صورت میں حاصل کر سکتا ہے اگر وہ پھر بھی اس میں کوتا ہی کرے تو اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرے لیکن کو تا ہی کیوں کرے ! جماعت خدا کے فضل سے بحیثیت جماعت ان باتوں میں کوتاہی کرنے والی نہیں ہے۔میں چونکہ چند دنوں تک دنیا کے بعض ایسے حصوں میں سفر کرنے والا ہوں جو پاکستان سے باہر ہیں اس لئے آج میں بعض دعاؤں کی طرف خصوصیت سے توجہ دلانا چاہتا ہوں ( میں نیچے سے اوپر جاؤں گا)۔اول اپنے نفس کے متعلق دعا کرنی چاہیے ولنفسك عليك علی ورائٹس کے لئے اگر صیح رنگ میں دعا کی جائے تو وہ بنیاد بن جاتی ہے۔ہر شخص جب اپنے نفس کے لئے دعا کرتا ہے تو اس کے دل میں ایک درد پیدا ہوتا ہے کئی پریشانیاں جب دعا کرتے وقت سامنے آتی ہیں کئی ضرورتیں جب دعا کرتے وقت سامنے آتی ہیں تو ایک جذب پیدا ہوتا ہے۔پھر اپنے نفس سے اٹھو اور پھر زیادہ دعائیں اپنے ماحول کے متعلق ، اور زیادہ دعا ئیں اپنے ملک کے متعلق کرو میں نے پہلے بھی کہا ہے اور یہ کہتے ہوئے میں تھکوں گا نہیں کہ ہمارے ملک کی ہم پر جو دعا کی ذمہ داری ہے وہ اس نوعیت کی ہے کہ دوسرے شاید اس کی اہمیت کو اتنا نہ سمجھتے ہوں۔میں یہ کہتا ہوں کہ ہم انتہائی شدت کے ساتھ یہ احساس رکھتے ہیں کہ جماعت احمدیہ کو اپنے ملک کی خیر خواہی اور بھلائی کے لئے دعائیں کرنی چاہئیں۔اپنے ملک کے استحکام اور بہبود کے لئے اور فتنہ وفساد سے ملک کے بچنے کے لئے دعائیں کرنی چاہئیں۔جب سے انسان ملک ملک میں بسنا شروع ہوا اور رہنے لگا ہے اس وقت سے ہر ملک کو کوئی نہ کوئی پریشانی، کوئی پرابلم (Problem) کوئی الجھن اور کوئی مسئلہ رہتا ہے۔ہماری یہ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے ملک کے تمام مسائل ایسے رنگ میں حل کر دے کہ تمام اہل ملک ، اہل پاکستان کے لئے خیر اور خوبی کے سامان پیدا ہو جائیں۔لیکن اسلام محض ایک ملک سے تو تعلق نہیں رکھتا بلکہ وہ نوع انسانی سے تعلق رکھتا ہے ملک