خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 504 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 504

خطبات ناصر جلد ششم ۵۰۴ خطبہ جمعہ ۱۶؍جولائی ۱۹۷۶ء ہے کہ چونکہ خدا تعالیٰ غیر متناہی قدرتوں کا مالک ہے اس لئے کوئی چیز اس کے حضور انہونی نہیں ہے اور ہماری زندگی میں بالکل قطعاً کوئی ایسا لمحہ نہیں آتا کہ ہمیں یہ کہنا پڑے کہ اب تو ہمارا خدا بھی ہماری مدد کو نہیں آسکتا۔یہ کفر ، شرک اور ہلاکت کا خیال ہے اگر کسی کے دماغ میں آئے۔خدا محفوظ رکھے۔میں کئی دفعہ اس کی مثالیں دیتا رہتا ہوں۔اس وقت میں مثال تو نہیں دوں گا لیکن یہ حقیقت میں نے بیان کر دی ہے کہ خدا تعالیٰ کے حضور کوئی چیز انہونی نہیں ہے اور چونکہ کوئی چیز اس کے حضور انہونی نہیں بلکہ وہ ہر چیز پر قادر ہے سوائے اس چیز کے جو اس کی صفات کے اور اس کے تقدس کے خلاف ہو یا اس کے وعدہ کے خلاف ہو یا مثلاً دعا کرنے والے کے اپنے مفاد کے خلاف ہو۔کیونکہ بعض دفعہ انسان خود اپنا فائدہ نہیں سمجھتا لیکن خدا سمجھ رہا ہوتا ہے اس لئے جو دعا کی جاتی ہے وہ قبول نہیں ہوتی بلکہ اس سے بہتر رنگ میں خدا اس کی دعا کو قبول کر لیتا ہے۔پس دوسری چیز جو ہمارے سامنے آتی ہے وہ قبولیت دعا ہے اور مایوسی کا قطعاً فقدان۔کسی احمدی کے دل میں کبھی یہ مایوسی پیدا نہیں ہو سکتی کہ ہمارا رب کسی وقت کسی چیز کے کرنے پر قادر نہیں ہوگا۔اگر ہم تدبیر کو جو اسی کی بتائی ہوئی ہے اپنی انتہا تک پہنچائیں گے اور اگر ہم دعا کو جو اس کے حضور الحاح کے ساتھ اس کی رحمت کو جذب کرنے کا ایک ذریعہ ہے اس کی انتہا تک پہنچائیں گے تو ہماری تدبیر اور ہماری دعا کا جو سانجھا نتیجہ نکلے گا وہ بہترین کامیابی اور فلاح ہے۔اس زمانہ میں جبکہ ایک دنیا خدا سے دور ہٹی ہوئی ہے اور اس سے پرے جا رہی ہے جس جماعت پر اللہ تعالیٰ نے یہ فضل کیا ہو کہ اس کو ان باریکیوں میں جا کر خدا تعالیٰ کی ذات وصفات کے متعلق علوم حاصل کرنے کے مواقع میسر آگئے ہوں اور اس کے نتیجہ میں علم کے حصول کا اور علمی میدانوں میں آگے بڑھنے کا شوق ان کے دلوں میں پیدا ہو رہا ہو اور وہ اپنی زندگیوں میں دعاؤں کی قبولیت کے نشان دیکھنے والے ہوں اتنے بابرکت زمانہ میں اگر وہ جماعت یا اس کے بعض افراد فائدہ نہ اٹھا ئیں تو ان سے زیادہ بد بخت اور بدقسمت کو ئی نہیں ہوگا۔ہم نے جو دعا اور تدبیر کرنی ہے وہ خدا تعالیٰ کی دی ہوئی تعلیم کے مطابق انسانی فلاح اور بہبود کے لئے کرنی ہے۔ہمیں اسلام میں یہ کہا گیا ہے کہ ایک مسلمان دل کسی سے بغض اور حسد اور کینہ اور دشمنی نہیں رکھتا