خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 503
خطبات ناصر جلد ششم ۵۰۳ خطبہ جمعہ ۱۶ / جولائی ۱۹۷۶ء اسلام نے ہمیں جو چیز سکھائی ہے وہ بڑی عجیب ہے وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے ہر مخلوق میں، ہر چیز جو اس نے پیدا کی ہے اس میں ایک خاصیت یہ رکھی ہے کہ وہ ہمیشہ خدا تعالیٰ کی صفات کا اثر قبول کرتی رہی ہے، قبول کرتی ہے اور قبول کرتی رہے گی۔اسی واسطے میں نے کئی دفعہ بغیر تفصیل میں جانے کے یہ کہا کہ ہر سال ہم گندم کے جو دانے کھاتے ہیں وہ پچھلے سال کی نسبت اس لحاظ سے مختلف ہوتے ہیں کہ اس سال کے دوران پہلے کے مقابلہ میں ان گندم کے دانوں نے پتہ نہیں کتنے غیر محدود آثار صفات باری سے اثر قبول کیا ہے اور آگے پھر انہوں نے اثر کرنا ہے ہمارے جسم پر ، اثر کرنا ہے ہمارے ذہن پر اور ہمارے اخلاق پر اور ہماری روحانیت پر۔کیونکہ کھانے کا اثر بھی اس دنیا میں ان سب چیزوں پر پڑتا ہے جو بظاہر اس کے ساتھ تعلق نہیں رکھتی لیکن تعلق رکھتی بھی ہیں۔مثلاً بزدلی ہے اس کا تعلق تو اخلاق سے ہے یعنی گرے ہوئے اخلاق سے لیکن جن لوگوں نے اپنے جسم کی صحیح اور پوری نشود نما حاصل نہیں کی ان میں سے بہت سے جسمانی کمزوری کے نتیجہ میں احساس بزدلی میں ملوث ہو جاتے ہیں اور اس کا شکار ہو جاتے ہیں۔حالانکہ بزدلی غیر مادی چیز ہے اور کھانا مادی چیز ہے اور ہمارے جسم بھی مادی چیز ہیں۔بہر حال یہ ایک لمبا مضمون ہے اور آپ کے سامنے اس کی مثالیں آتی رہتی ہیں۔پس ہمیں یعنی جماعت احمدیہ کے افراد کو اپنے حواس کو جو کہ علم حاصل کرنے کے دروازے ہیں کھلا رکھنا چاہیے تا کہ علم کی روشنی انسان کے وجود کے اندر ہر آن داخل ہوتی رہے۔اس وقت میں خصوصیت سے نوجوانوں کو کہ رہا ہوں ورنہ میرا عقیدہ بھی یہی ہے اور میرا مشاہدہ بھی یہی ہے که انسان ساری عمر ہی علم سیکھتا ہے اور طالب علم رہتا ہے لیکن خاص طور پر جو طالب علم کی زندگی ہے وہ طالب علم کی زندگی کہلاتی ہے لیکن اصل میں علم کا حصول تو انسان مرتے دم تک کرتا ہے یا اس کو کرنا چاہیے اور جماعت تو ایسا کرتی ہے ان کے لئے نئے سے نئے علم سیکھنے کے مواقع پیدا ہوتے ہیں اور وہ خدا تعالیٰ کی قدرتوں اور اس کے نشانات کا مشاہدہ کرتے ہیں اور ہر علم خدا تعالیٰ کی ذات سے تعلق رکھتا ہے کیونکہ ہر چیز کی خصوصیتیں اور خواص در اصل آثار صفات باری ہیں۔دوسرا دروازہ جو اس حقیقت زندگی کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ نے ہمارے لئے کھولا ہے وہ یہ