خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 502 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 502

خطبات ناصر جلد ششم ۵۰۲ خطبہ جمعہ ۱۶؍جولائی ۱۹۷۶ء کی کیفیت ہے عقلمندی کی کیفیت نہیں۔دنیا نے خصوصاً آج کی دنیا نے نہ صرف یہ کہ معجزہ کا دروازہ کہ اللہ تعالیٰ انسانی مشاہدہ سے باہر اپنی قدرتوں کا اظہار کر سکتا ہے یا نہیں ) آئندہ کے متعلق بند کیا بلکہ جو پچھلے معجزات اللہ تعالیٰ نے دکھائے تھے ان کے ماننے سے بھی انسان کی کم فہمی اور کم عقلی نے انکار کر دیا۔ہم جو قرآن عظیم پر ایمان رکھتے اور اس زمانہ میں قرآن کریم کی حکمتوں کو سمجھنے کی اپنے رب سے تو فیق پانے والے ہیں ہم خدا تعالیٰ کے قانون کو اس کے آثار الصفات کو غیر محدود سمجھتے ہیں اور ہم یہ یقین رکھتے ہیں کہ انسان کا ناقص علم قانون قدرت کا احاطہ نہیں کر سکتا۔اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے عملی زندگی کے دوز بر دست دروازے کھولے ہیں اور اس تمہید کے بعد میں اس کی طرف ہی اپنے احمدی بچوں اور نوجوان طالب علموں کی توجہ پھیرنا چاہتا ہوں۔ایک یہ کہ جس نے تو یہ سمجھ لیا کہ قانون قدرت پر انسانی علم نے احاطہ کر لیا ہے اس کے لئے تعلیم کے میدان میں آگے بڑھنا ذ ہنی طور پر مشکل ہو جاتا ہے یہ الجھن پیدا ہو جاتی ہے کہ جب جو کچھ حاصل کرنا تھا وہ ہو چکا تو اب ہم کیا کریں۔رکھے الگا ئیں، پچھلوں نے جو کہا تھا اس کو اپنے حافظہ میں محفوظ رکھیں؟ یہ تو علم نہیں ہے عربی کی اصطلاح میں بھی اسے علم نہیں کہتے بلکہ علم کے اصطلاحی معنی ہیں وہ نور فراست جو اندھیروں میں اجالا پیدا کر دے۔اس واسطے رتھ لگانے یا پچھلوں کے مشاہدات کو از بر حفظ کر لینے کا علم سے کوئی تعلق نہیں بلکہ پچھلوں کے مشاہدات سے فائدہ اٹھا کر اپنے لئے نئی راہ کھولنے کی کوشش کرنا اور خدا تعالیٰ کی توفیق سے کامیاب ہو جانا یہ علم ہے۔اللہ تعالیٰ نے احمدی نوجوانوں کو احمدی طلباء کو بڑا ذہن دیا ہے۔ان کو یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ خدا تعالیٰ کی غیر محدود قدرت اور اس کے قوانین قدرت اور آثار الصفات میں سے ایک چھوٹا سا حصہ انسان نے ابھی تک علمی رنگ میں حاصل کیا ہے اور بہت بڑا چھپا ہوا علم اس وقت موجود ہے۔خدا تعالیٰ کی صفات کے آثار تو ہر وقت ظاہر ہور ہے ہیں اس کی صفات ہر وقت جلوہ گر ہوتی ہیں اور خدا تعالیٰ کی مخلوق ہر روز ان صفات سے نئے اثرات قبول کر رہی ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کی صفات کے جلوؤں میں اثر پیدا کرنے کی طاقت ہے وہ تو قادر مطلق ہے اسے جو چیز پسند ہو وہ ظاہر ہو جاتی ہے۔