خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 497
خطبات ناصر جلد ششم ۴۹۷ خطبہ جمعہ ۲؍جولائی ۱۹۷۶ء کی رو سے حسنات دنیا اور حسنات آخرت کا وارث بنتا ہے یہ حسنات تبھی ملتی ہیں جب صرف جوش ہی جوش نہ ہو دنیا میں جتنے اچھے عالم محقق اور موجد گزرے ہیں ان کی سوانح سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ بڑے ٹھنڈے دل اور دماغ کے مالک تھے اور جوش میں آکر کوئی قدم نہیں اٹھاتے تھے میں نے دیکھا ہے اور مجھے بڑی حیرانی ہوتی ہے کہ بعض دفعہ بعض احمدی بھی جوش میں آجاتے ہیں کوئی حوالہ مل جاتا ہے تو وہ چھلانگ لگا کر اس کا غلط استدلال کر لیتے ہیں ایسا حوالہ کسی کام کا نہیں نہ ہمارے کام کا اور نہ کسی اور کے کام آسکتا ہے۔غرض ٹھنڈے دماغ سے سوچ کر اور سمجھ کر اور پھر نتائج نکالنا یہ چیز تبھی ممکن ہے جب انسان اپنے جوش کو قابو میں رکھے وہی شخص دنیا میں ترقی کرتا ہے جو اپنے نفس کو قابو میں رکھتا ہے آج کی دنیا دنیوی علوم میں بہت ترقی کر گئی ہے احمدی نوجوان نے انشاء اللہ و بفضلہ تعالیٰ ان سے آگے نکلنا ہے اور آج کی دنیا دین کے میدان میں بہت پیچھے رہ گئی ہے اور دین کے میدان میں اس کو آگے لانا ہے ایک احمدی نے اپنی دعاؤں کے ساتھ اور عاجزانہ راہوں کو اختیار کرتے ہوئے اور تکبر کے کسی پہلو کو بھی قریب نہ پھٹکنے دے کر۔پس جو تکبر اور فخر اور غرور ہے یہ ہمارے حصہ میں نہیں اور ہم خوش ہیں اور الحمد للہ کہتے ہیں کہ ہمارے حصہ میں نہیں ہمارے حصہ میں عاجزی، انکساری فروتنی ہمدردی اور غمخواری ہے اور ہم الحمد للہ پڑھتے ہیں اور خدا کا شکر ادا کرتے ہیں کہ یہ ہمارے حصہ میں آئے اور خدا کرے کہ یہ ہمیشہ ہی ہمارے حصہ میں رہیں۔روزنامه الفضل ربوه ۲۰ ؍جولائی ۱۹۷۶ء صفحه ۲ تا ۵ )