خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 494
خطبات ناصر جلد ششم ۴۹۴ خطبہ جمعہ ۲؍جولائی ۱۹۷۶ء ہیں یا انسان کے جو بنیادی حقوق ہیں یہ حکم اس کے خلاف ہے۔غرض کوئی بحث ہی نہیں کی اور فیصلہ خدا تعالیٰ پر چھوڑ دیا اور خدا تعالیٰ نے یہی فیصلہ کیا کہ تم نے اپنی مرضی سے اپنا سب کچھ میرے حضور پیش کر دیا اور میں اپنی مرضی سے یہ سب کچھ پھر تمہیں واپس لوٹاتا ہوں۔جن قربانیوں کا میں مطالبہ کروں گا وہ اس سے مختلف اور اس سے بڑی ہوں گی اور وہ قربانیاں تمہیں دینی پڑیں گی میں نے پہلے بھی بتایا ہے کہ وہ بڑی قربانی جس کا ذکر قرآن کریم نے کیا ہے وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد کو نسلاً بعد نسل دینی پڑی یہاں تک کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہو گئے اور پھر اولاد ابراہیم آپ کی خدمت میں لگ گئی اور انہوں نے خدا کی توفیق اور اس کی رحمت سے دنیا میں نوع انسانی کے حق میں ایک انقلاب عظیم بپا کر دیا۔غرض توحید خالص پر قائم رہنا اور شرک سے پورا اجتناب ضروری ہے ایسی صورت میں جب ہم یہ کہتے ہیں کہ اطاعت امیر کرنی ہے اور قانون شکنی نہیں کرنی تو یہ ایک دوسرے کے متضاد نہیں کیونکہ ہم حکومت وقت کے اس لئے وفادار نہیں کہ ہم کسی سے ڈرتے ہیں بلکہ اس لئے اطاعت کرتے ہیں کہ خدا کہتا ہے حکومت وقت کے وفادار ہو۔اسی طرح ہم قانون شکنی سے بچتے ہیں اور قانون کی اطاعت کرتے ہیں اس لئے کہ خدا نے قرآن کریم میں کہا ہے کہ تم قانون کی اطاعت کرو اور چونکہ قرآن کریم حکمتوں سے پر کتاب ہے۔قرآن کریم نے ہر بات کی حکمت بھی بتا دی ہے پس ہم علی وجہ البصیرت قانون شکنی سے پر ہیز کرنے والے اور قانون کی اطاعت کرنے والے ہیں۔ویسے تو ہر ملک کی ایک بہت بھاری اکثریت قانون کی اطاعت کرتی ہے اور حاکم وقت کی مطیع اور تابعدار ہوتی ہے لیکن ان میں سے اکثر علی وجہ البصیرت سوچ سمجھ کر اطاعت نہیں کر رہے ہوتے بلکہ کوئی ڈر کے مارے کر رہا ہوتا ہے۔کوئی لالچ میں کر رہا ہوتا ہے۔کوئی کسی نیت سے اور کوئی کسی نیت سے اطاعت کر رہا ہوتا ہے۔اس وقت اس کی تفصیل میں جانے کا وقت نہیں۔لیکن ایک مسلمان احمدی اس لئے اطاعت کر رہا ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے اسے سمجھایا ہے کہ اگر تم میرا یہ حکم مانو گے تو میری طرف سے تمہیں جزا ملے گی۔تمہیں ثواب ملے گا۔تمہاری زندگی کی خوشحالی کے سامان پیدا ہوں گے۔اس لئے کسی پر احسان جتائے بغیر، حاکم وقت پر