خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 480 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 480

خطبات ناصر جلد ششم ۴۸۰ خطبہ جمعہ ۲۵ جون ۱۹۷۶ء وہ ابدی ذمہ داریاں ہیں جو شریعت اسلامیہ نے اسلام کی طرف منسوب ہونے والوں پر ڈالی ہیں شریعتِ اسلامیہ کی بہت سی ایسی ذمہ داریاں ہیں کہ وہ اور قانون وقتی کی ذمہ داریاں ایک ہی ہو جاتی ہیں کیونکہ اسلام انسانی فطرت کے مطابق مذہب ہے اور انسانی فطرت اسلام سے باہر پوری طرح نشو و نما حاصل نہیں کرتی بلکہ اسلام کے اندر پوری نشوونما حاصل کرتی ہے اس لئے اسلام سے باہر جو شہری ذمہ داریاں ڈالی جاتی ہیں وہ ناقص ہوتی ہیں اور وہ ادھوری رہتی ہیں۔اسلام نے زیادہ وسعت اور پھیلاؤ کے ساتھ انسان کو دوسرے انسانوں کے حقوق کی طرف توجہ دلائی ہے بہر حال شہری ذمہ داریاں جو قانون کے ذریعہ سے شہریوں پر ڈالی جاتی ہیں وہ وقتی بھی ہوتی ہیں اور ہمیشہ کے لئے بھی۔مثلاً ہمسایوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا یہ ہر شہری کی قانون یا معاشرہ کی طرف سے ذمہ داری ہے یہ غیر اسلامی معاشرہ میں بھی ہے چنانچہ جسے وہ مہذب معاشرہ کہتے ہیں اس میں بھی وہ کہتے ہیں کہ اپنے ہمسایوں کا خیال رکھو۔میں جب پڑھا کرتا تھا تو ایک دفعہ میں جرمنی میں سفر کر رہا تھا اُس زمانے میں ہٹلر کی حکومت تھی جو کہ بڑا سخت ڈکٹیٹر تھا وہاں مجھے کسی سے یہ علم ہوا کہ اگر رات کو آٹھ بجے کے بعد کوئی گھر والا زیادہ اونچی آواز سے ریڈیو چلائے تو اگر اس کا ہمسایہ یہ شکایت کر دے کہ اس نے مجھے سونے نہیں دیا اور میرے آرام میں مخل ہوا ہے تو قانون فوراً حرکت میں آجاتا ہے اور اگلے دن صبح پولیس پہنچ جاتی ہے۔غرض دوسروں کا خیال رکھنا قانون اور معاشرہ کی طرف سے ذمہ داری ہے۔میں نے جو مثال دی ہے بعض ملک اس کا خیال رکھتے ہیں اور بعض نہیں رکھتے۔مختلف حکومتوں میں تھوڑا بہت فرق ہوتا ہے، وہ بعض باتوں کا خیال رکھتی ہیں اور بعض کا نہیں بھی رکھتیں لیکن بہر حال حکومتِ وقت بھی دوسروں کا خیال رکھتی ہے اور ہماری شریعت یعنی شریعت اسلامیہ بھی اس بات کا خیال رکھتی ہے۔انسان کے انسان پر بہت سے ایسے حقوق ہیں جن کے حصول کے لئے یا جن کی ادائیگی کے لئے امن کی ضرورت ہے۔اگر امن عامہ نہ ہو تو وہ حقوق ادا نہیں ہو سکتے۔اسی لئے حکومتیں فساد سے روکنے کی کوشش کرتی ہیں اور امن کا ماحول پیدا کرنے کی کامیاب یا ناکام کوششیں ہمیشہ