خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 440 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 440

خطبات ناصر جلد ششم ۴۴۰ خطبہ جمعہ ۱٫۳۰ پریل ۱۹۷۶ء ہوتی۔پھر اسلام کے جہاد کی شکل بدل گئی اس میں زیادہ وسعت پیدا ہوگئی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ آگیا تو دنیا میں زیادہ وسعت کے ساتھ اسلام پھیلنے لگا۔پھر کسری اور قیصر کی دو حکومتیں جو اُس وقت کی دنیا میں سب سے بڑی حکومتیں سمجھی جاتی تھیں مال کے لحاظ سے بھی اور اپنی فوجوں کے لحاظ سے بھی ، اپنے ہتھیاروں کے لحاظ سے بھی اور اپنے تجربہ کے لحاظ سے بھی ، اپنی ذہانت کے لحاظ سے بھی اور علوم میں اپنی ترقی کے لحاظ سے بھی ، اُن کے ساتھ تصادم ہو گیا اس لئے کہ اسلام کے دشمن یہ سمجھے کہ دنیا کے مال ، دنیا کی دولتیں ، دنیا کی طاقتیں ، فوجیں اور ہتھیا رصداقت کی شمع کو بجھا دیا کرتے ہیں۔وہ غلط سمجھے اور انہیں اپنی اس غلطی کا خمیازہ میدانِ جنگ میں سر کٹوا کر بھگتنا پڑا۔اب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں اگر کوئی شخص یہ کہتا کہ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تو چھوڑتا ہے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں تو اُسے سوائے بیوقوف، احمق اور پاگل کہنے کے ہمارے پاس اور کوئی الفاظ نہیں پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے ، پھر ملوکیت آ گئی بادشاہتیں آگئیں تاہم اسلام کی جو حرکت تھی ترقی کی طرف اور بڑھنے کی طرف اور غلبہ کی طرف وہ جاری رہی، اس میں شدت نہ رہی یہ تو درست ہے لیکن وہ جاری رہی۔اسلام کے نام پر اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت پیدا کرنے کے لئے اور تو حید کو غالب کرنے کے لئے اور قائم رکھنے کے لئے مسلمانوں نے قربانیاں دیں اور ہزاروں نے اپنی گردنیں کٹوائیں۔کس کے لئے کٹوائیں؟ اُس کے لئے جو اُن کا رب کریم تھا جو اُن کو پیدا کرنے والا اور اُن سے پیار کرنے والا اور پیار کے جلوے اُن پر ظاہر کرنے والا تھا اور اُن کی ہر تکلیف اور دُکھ کے وقت اُن سے اس طرح ہم کلام ہونے والا تھا کہ اُن کی ساری تکالیف اور دکھ دور ہو جاتے تھے اور پریشانیاں جاتی رہتی تھیں۔غرض ایک تو خدا کی تو حید کو قائم کرنے کے لئے مسلمانوں نے قربانیاں دیں اور دوسرے اس مبارک وجود کی خاطر جو ایک عظیم انسان نوع انسانی کی طرف آیا کہ ویسا نہ پہلے کسی ماں نے جنا اور نہ بعد میں کوئی جن سکتی ہے۔غرض محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قدرا حسانِ عظیم ہیں نوع انسانی پر کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے لیکن یہ اس وقت میرا مضمون نہیں۔میں قرونِ اولیٰ کے