خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 435
خطبات ناصر جلد ششم ۴۳۵ خطبه جمعه ۱/۳۰ پریل ۱۹۷۶ء امریکہ سے تمہاری سفارش کر دیں گے کہ وہ تمہیں وظیفہ دے دیں۔اُس کے ایک پروفیسر صاحب میرے پاس بھی آگئے کہ آپ اس کا مستقبل خراب کر رہے ہیں۔یہ کہتا ہے کہ میں تو جماعت کا بچہ ہوں اور جو جماعت کہے گی وہ کروں گا اس کا مستقبل خراب ہو جائے گا۔آپ اسے اجازت دے دیں بلکہ حکم دیں کہ یونیورسٹی میں پانچ سال تک پڑھائے اور پھر ہم امریکہ سے سفارش کریں گے کہ وہ اسے وظیفہ دے دیں۔میں نے اُن سے کہا یہ تو میرے نزدیک بڑی بے غیرتی والی بات ہے کہ کام تمہارا کرے اور پھر سفارش تم امریکہ سے کرو گے۔اس کو سفارش کی ضرورت اس لئے نہیں کہ جماعت احمدیہ کا یہ بچہ ہے اور وہی اس کی ذمہ دار ہے اس کا مستقبل خراب نہیں ہو گا تم فکر نہ کرو۔چنانچہ جماعت نے اُسے باہر بھجوایا اس نے تین سال کی بجائے اڑھائی سال میں لنڈن میں پی ایچ ڈی کا کورس مکمل کر لیا۔میں نے وہاں کے پرانے تجربہ کار احمدی دوستوں کولکھا تھا کہ یہ ہمارا بچہ ہے اور ماشاء اللہ بڑا ذہین ہے اس کا جو حساب کا شعبہ ہے اس میں دنیا کا جو بہترین استاد ہے جہاں بھی وہ ہو اس کے پاس اسے جانا چاہیے۔جتنا بھی خرچ آئے جماعت برداشت کرے گی۔تو مجھے مشورہ دیا گیا کہ اس مضمون ( جس میں اللہ تعالیٰ نے نہایت اعلیٰ ذہن دیا ہے ) کا بہترین استاد ماسکو میں ہے اور وہ غالباً اس کو داخل نہیں کریں گے لیکن دوسرے نمبر پر جو بہترین استاد وہ لندن میں ہے۔اس لئے میں نے کہا اُس کے پاس داخلہ لے لے۔وہاں وہ داخل ہوا وہ اتنا شریف النفس انسان ہے کہ جب وہ یہاں تھا تو اس وقت بھی اسے اپنے نفس کی عزت کا شعور اور احساس تھا جس نے میری طبیعت پر بڑا اثر ڈالا ہوا تھا۔وہاں بھی جو اُ سے غریبانہ وظیفہ ملا اسی میں تنگی اور ترشی سے گزارہ کرتا رہا اور تین سال کی بجائے اڑھائی سال میں اس نے پی ایچ ڈی کر لی۔پھر اس کے استاد بڑی شفقت سے کہنے لگے کہ تم چھ ماہ اور ہمارے پاس لگا ؤ اور ریسرچ کرو اس طرح تمہیں اور مہارت ہو جائے گی اور علم میں ترقی کرو گے۔اس نے کہا میں جماعتِ احمدیہ کا نوجوان ہوں میں ان کی اجازت کے بغیر کوئی کام نہیں کروں گا چنانچہ انہوں نے مجھے خط لکھا کہ ہم نے اسے یہ مشورہ دیا ہے اور وہ انکار کر رہا ہے اس کو بہت فائدہ پہنچے گا آپ اس کو اجازت دے دیں۔وہ یہ سمجھتے تھے کہ شاید ہم پیسے کی وجہ سے آگے نہیں پڑھانا چاہتے اس لئے اُنہوں نے