خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 434
خطبات ناصر جلد ششم ۴۳۴ خطبه جمعه ۱/۳۰ پریل ۱۹۷۶ء دشمن ہو کیونکہ خدا نے ذہنی قابلیت کی شکل میں پاکستان کو ایک نعمت دی ہے تم اس کو ٹھکرانا چاہتے ہو اور اس طرح پاکستان کو نقصان پہنچانا چاہتے ہو لیکن ہم بہر حال Merit پر داخلہ لیں گے ورنہ نہیں داخل ہوں گے چونکہ ہم مسلمان ہیں اس لئے تم نے غیر مسلموں کے لئے جو سیٹیں رکھی ہوئی ہیں ہم ان میں سے کوئی سیٹ نہیں لیں گے۔اس پر بڑے ہنگامے ہوئے ، کورٹ میں جانا پڑا۔یہ سب کچھ ہوا تو بالآخر خدا تعالیٰ نے ایسے سامان پیدا کر دیئے کہ بعض عقل رکھنے والوں نے کہا یہ کیا مذاق ہو رہا ہے چنانچہ اب اُنہوں نے یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ غیر مسلموں (اقلیتوں) کے لئے سیٹ ہی نہیں ہوگی بلکہ Merit پر داخلہ ہوا کرے گا۔ہم بڑے خوش ہیں تا ہم ہوسکتا ہے کہ اب کوئی متعصب ممتحن جسے اگر پتہ لگ جائے کہ فلاں لڑکا احمدی ہے تو وہ اس کو نقصان پہنچا دے لیکن یہ ایک استثناء ہوگا اور ایسا شاذ ہی ہو گا کیونکہ عام طور پر انسان فطرتا شریف ہے خدا نے اُسے یوں ہی تو اشرف المخلوقات نہیں کہا۔میرا واسطہ لاکھوں غیر احمدیوں سے پڑتا رہا ہے احمدیوں میں سے تو ہر ایک میرا پیارا بھائی اور تعلق رکھنے والا ہے لیکن غیروں میں سے بھی لاکھوں سے میراتعلق رہا ہے اور میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ ہمارے ملک میں ایک لاکھ میں سے ۹۹۹۹۹ شرفاء ہیں اس واسطے یہ خطرہ تو نہیں لیکن استثنائی طور پر کسی بچے کو اس پہلو سے نقصان بھی پہنچ سکتا ہے لیکن جو بچہ ذہین ہے اور خدا تعالیٰ جماعت احمدیہ میں اسے ایک روشن ذہن دے کر پیدا کرتا ہے اس کے متعلق میں اعلان کر چکا ہوں کہ اُسے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔یہ جماعت کی ذمہ داری ہے وہ پڑھے گا۔جہاں تک اس کا ذہن اس کا ساتھ دیتا ہے اور وہ ترقی کر سکتا ہے اُسے پڑھایا جائے گا ترقی کرنے کا موقع دیا جائے گا چنانچہ اس وقت بھی ہمارے کئی بچے غیر ممالک میں پڑھ چکے ہیں یا پڑھ رہے ہیں۔میں ایک بچے کے متعلق پہلے بھی کئی بار بتا چکا ہوں وہ حساب کے ایک خاص شعبہ میں بڑا ذہین ہے۔پہلے تو بعض اساتذہ اُسے بھی بہت ستاتے رہے حالانکہ وہ بڑا جینٹس (Genius) اور غیر معمولی ذہن رکھنے والا بچہ تھا اور جب باوجود سب کچھ کرنے کے اُس نے بہت اچھے نمبر لے لئے تو پھر اُسے کہنے لگے کہ اب یونیورسٹی سے معاہدہ کر لو پانچ سال تک یہاں پڑھاؤ پھر ہم