خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 405
خطبات ناصر جلد ششم ۴۰۵ خطبہ جمعہ ۹ ا پریل ۱۹۷۶ء ہے ہم کیسے وہ تو ڑ سکتے ہیں ہمارا جو تعلق محبت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہے اس تعلق کو تمہاری کوئی تدبیر قطع نہیں کر سکتی ، خدا کے فضل اور اس کے رحم کے ساتھ۔یہ باتیں آپس میں کیا کرو اور وقف عارضی پر جو دوست باہر جائیں وہ جا کر ایسی باتیں کہیں۔جماعت خدا تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت کے اتنے نشان دیکھ چکی ہے کہ جن کا شمار نہیں۔انفرادی نشان بھی ، ایک ایک گاؤں میں بھی خدا نے اپنی قدرتوں کے نشان دکھائے اور ساری دنیا میں بھی وہ اپنی قدرتوں کے نشان اور اپنے پیار کے سلوک کے نشان دکھا رہا ہے۔اس کے بعد ناشکری کی کوئی راہ تو ہم اختیار نہیں کر سکتے اور ہماری ذمہ داری یہ نہیں ہے کہ ہم ڈنڈے کے ساتھ یا تیر کمان کے ساتھ یا بندوق کے ساتھ یا ایٹم بم کے ساتھ دنیا کو اسلام کی طرف لے کر آئیں۔ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم پیار کے ساتھ ، ہم بے لوث خدمت کے ساتھ ، ہم خدا تعالیٰ کے حضور جھک کر اس سے برکتیں حاصل کر کے خدا تعالیٰ کے فضلوں کو لوگوں تک پہنچا کے، خدا تعالیٰ کا انسان سے تعارف کروا کے اور اسلام نے انسان میں مساوات اور انسان کے حقوق کو قائم کرنے کے لئے جو صحیح تعلیم دی ہے نوع انسانی کو اس سے روشناس کروا کے نوع انسانی کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے لانے کی کوشش کریں، یہ ہماری ذمہ داری ہے۔پس عاجزانہ راہوں کو اختیار کر کے بغیر کسی فخر اور غرور کے بغیر کسی نخوت اور تکبر کے سروں کو جھکائے ہوئے اس راہ پر چلتے رہو جو صراط مسقیم کہلاتی ہے اور جو خدا تعالیٰ کے پیار کو جذب کرنے والی راہ ہے اور سوائے خدا کے کسی سے نہ ڈرو اور خدا تعالیٰ کی راہ میں اگر تکلیف اٹھانی پڑے تو اسے بشاشت سے اٹھاؤ۔تکلیف سے بچنے کے لئے ایک احمدی کا دل اور اس کا دماغ اور اس کی روح خدا تعالیٰ کو چھوڑ نے کے لئے کیسے تیار ہو جائے گی۔ہماری روح تو یہ بات سوچ کر بھی کانپ اُٹھتی ہے۔اتنا پیار کرنے والا خدا جس نے آج تک ہمیں لاوارث نہیں چھوڑا وہ آئندہ بھی نہیں چھوڑے گا۔اس کی طاقتوں میں تو کبھی کوئی کی نہیں آئی اور نہ آسکتی ہے باقی جب تک دل نہیں بدلتے دنیا آپ کو یہی سمجھتی رہے گی اور دل بدلنا خدا کا کام ہے۔انسان کا دل خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے لیکن آپ کا فرض یہ ہے کہ اپنے نمونہ سے جیسا کہ اَسْلَمْتُ وَجْهِيَ لِلَّهِ میں کہا گیا ہے۔دنیا کو یہ بتاؤ کہ ہم اسلامی تعلیم پر