خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 404
خطبات ناصر جلد ششم ۴۰۴ خطبہ جمعہ ۹ ا پریل ۱۹۷۶ء ہیں کہ جس وقت مہدی علیہ السلام کو تمام بدعات اور بدعقائد اور بد رسوم سے پاک کر کے اسلام کو اس کی حسین اور صحیح شکل میں دنیا کے سامنے پیش کریں گے تو آپ پر یہ اعتراض کیا جائے گا کہ یہ نیا دین اور نئی کتاب لے آیا ہے۔لوگ کہیں گے کہ یہ نیا دین لے آئے ہیں اور انہوں نے نئی کتاب بنالی ہے نہ قرآن پر عمل کرتے ہیں نہ دین اسلام پر عمل کرتے ہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ مہدی کے زمانہ میں ایسا ہوگا اور آج جو کہتے ہیں کہ ایسا ہوا وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے عین مطابق اور ہماری صداقت کے ثبوت میں ایسا کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نیامذہب لے کر آگئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ سچے مہدی کی یہ علامت ہے کہ جب وہ آئے گا تو اسلام کے چہرے کو ہر قسم کی گرد سے صاف کر کے اس کے حسین چہرے کو دنیا کے سامنے پیش کرے گا تو اس وقت یہی کہا جائے گا۔پس دنیا نے اگر یہ کہا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نیادین اور نئی کتاب لے کر آگئے ہیں تو عین اس کے مطابق کہا جو آج سے چودہ سو سال پہلے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا تھا لیکن ہمارے اوپر ایک ذمہ داری ہے ہمارے لئے اس دنیا سے کوچ کر جانا زیادہ آسان ہے بہ نسبت اس کے کہ ہم یہ کہیں کہ ہمارا دین دینِ اسلام کے علاوہ کوئی اور دین ، اور ہمارا نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کوئی اور نبی ہے۔وقف عارضی کے جو وفود باہر دوسری جگہوں پر جائیں وہاں بھی اور پھر واپس آکر اپنے ہاں بھی یہ بات اچھی طرح دلوں میں گاڑ دیں کہ اسلام کو ہم نہیں چھوڑ سکتے۔اپنی جانوں کو چھوڑ سکتے ہیں ، اپنے مالوں کو چھوڑ سکتے ہیں، اپنے بیوی بچوں کی گردنیں کٹوا سکتے ہیں لیکن اسلام کو نہیں چھوڑ سکتے۔یہ ہو ہی نہیں سکتا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔کسی صورت میں بھی کوئی احمدی اپنے آپ کو اسلام سے دور نہیں کہہ سکتا اپنے آپ کو غیر مسلم نہیں کہہ سکتا۔باقی اگر کوئی شخص ہمیں کا فر کہتا ہے تو یہ نئی بات نہیں ۸۰ اسی سال سے ہمیں کا فر کہا جا رہا ہے البتہ تم یہ سوچ لو کہ تم نے خدا تعالیٰ کے حضور جوابدہ ہونا ہے۔تم مخالفین جو مرضی کہ لو ہم اپنے منہ سے کیسے وہ چیز کہہ سکتے ہیں جو حقیقت سے دور اور نفاق کی بدبو اپنے اندر رکھتی ہے۔ہمارا جو رشتہ ہمارے پیار کرنے والے رب کے ساتھ