خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 403
خطبات ناصر جلد ششم ۴۰۳ خطبہ جمعہ ۹ ا پریل ۱۹۷۶ء ہمارے بھائی شیعہ حضرات نے مہدی علیہ السلام کے متعلق احادیث بڑے پیار اور محنت سے اکٹھی کی ہیں اور سنبھالی ہوئی ہیں کیونکہ وہ مہدی منتظر کا انتظار کر رہے تھے اور غیر شیعہ بھی مہدی کا انتظار کر رہے تھے۔مہدی آگئے اور ہم نے خدا کی توفیق سے انہیں شناخت کر لیا لیکن خدا تعالیٰ ان کو بہتر رنگ میں بہتر جزا دے کہ انہوں نے ان احادیث کو جن کا تعلق مہدی علیہ السلام کے ساتھ تھا سنبھال کر رکھا اور اس میں کوئی فرقہ وارانہ تعصب نہیں برتا۔آجکل جو کتابیں ایران میں چھپ رہی ہیں ان میں سے کچھ یہاں پہنچی ہیں ساری تو نہیں پہنچیں میرے خیال میں بارہ پندرہ پہنچ چکی ہیں ان کے بہت سے حصے میں نے خود دیکھے ہیں۔جب شروع میں میں نے دیکھے تو مجھے یہ دیکھ کر بے حد خوشی ہوئی کہ جہاں تک احادیث کے اکٹھا کرنے کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال کے اکٹھا کرنے کا سوال تھا ان کے اندر کوئی تعصب نہیں ہے یعنی ہمارے جو شیعہ بھائی ہیں ان کی کتب میں ان کے علماء نے یہ لکھا ہے کہ امام بخاری سے یہ روایت مروی ہے اور امام شافعی سے یہ روایت مروی ہے اور امام ابو حنیفہ سے یہ روایت مروی ہے اور سید عبدالقادر جیلانی سے یہ روایت مروی ہے۔غرض ان کے پرانے لٹریچر میں کسی فرقہ اور کسی فقہی مسلک کے مابین کوئی فرق نہیں ہے انہوں نے سب احادیث اکٹھی کر دی ہیں۔انہوں نے اپنی کتابوں میں ایک حدیث یہ بھی محفوظ کی ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد بھی محفوظ کیا ہے کہ ایک روز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے تو آپ نے انہیں فرمایا کہ مہدی علیہ السلام کے زمانہ میں اسلام میں اس قدر بدعات شامل ہو چکی ہوں گی کہ جب مہدی اسلام کو ان بدعات سے پاک کر کے اس کی صحیح شکل میں اسے دنیا کے سامنے پیش کرے گا تو لوگ کہیں گے کہ یہ نیا دین اور نئی کتاب لے آیا ہے۔یہ کیسی باتیں کر رہا ہے۔گویاوہ بد رسوم اور بدعقائد کی وجہ سے اسلام کی صحیح شکل کو شناخت نہیں کر سکیں گے لیکن ہم مہدی علیہ السلام پر ایمان لائے اور جس جماعت کا یہ مقام ہو، اس بشارت کے نتیجہ میں جو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ان سے یہ توقع رکھنا کہ وہ اپنے آپ کو غیر مسلم کہنے لگ جائیں گے اور کوئی نیا دین اور کوئی نئی کتاب بنا لیں گے، یہ توقع عبث ہے۔اس لحاظ سے تو ٹھیک ہے کہ جس چیز کو مد صلی اللہ علیہ وسلم نے تسلیم کیا اسے ہم بھی تسلیم کرتے