خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 402
خطبات ناصر جلد ششم ۴۰۲ خطبہ جمعہ ۹ را پریل ۱۹۷۶ء کا دل جیت کر اسے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے لانا ہے۔پس شیطان کوئی وسوسہ ہمارے ذہن میں ڈال کر ہمیں اپنی راہ سے بھٹکنے پر مجبور نہیں کر سکتا۔خدا تعالیٰ نے ہمیں یہ طاقت دی ہے اور میں امید رکھتا ہوں اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے جماعت کو ہمیشہ اس قسم کے وسوسوں اور ان کے شر سے محفوظ رکھے گا۔دوسری بات جو بہت اہم اور بہت بنیادی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مثیل مسیح ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے كما استَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمُ (النور : ۵۶) پر بنیا د رکھ کر قرآن کریم کی آیات سے استدلال کیا اور فرمایا کہ اُمت محمدیہ میں آخری خلیفہ کے آنے کی جو بشارت تھی اس کے مطابق مجھے مہدی معہود و مسیح موعود بنا کر بھیجا گیا ہے۔مسیح موسوی علیہ السلام پر ایمان لانے والوں پہ جو بیتی ، ان پر جو گذری اس سے ہمیں سبق لینا چاہیے۔اُن کو یہودیوں نے اتنا تنگ کیا ، انہیں اتنا دکھ پہنچایا اور ان کو موسوی شریعت سے اتنا پرے دھکیلا کہ ایک عرصہ کے بعد دو علیحدہ علیحدہ مذہب بن گئے۔دو جماعتیں اور دوExtremes(ایکسٹریمز ) بن گئیں جو بالکل نمایاں طور پر ایک دوسرے کے خلاف تھیں۔ایک مسیحی کہلانے لگے اور ایک یہودی کہلانے لگے حالانکہ حضرت مسیح ناصری علیہ السلام تو یہودی شریعت کے قیام کے لئے آئے تھے لیکن ایک خلیج بیچ میں پیدا کر دی گئی لیکن مسیح محمدی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور ان کی جماعت کا مقام مختلف ہے اور اس کے مطابق خدا تعالیٰ نے امت محمدیہ کو بشارتیں دی ہیں۔ہر بشارت ماننے والوں پر ایک ذمہ داری ڈالتی ہے اور جو بشارت جتنی بڑی ہوتی ہے اتنی ہی بڑی ذمہ داری ڈالتی ہے۔اس وقت ہم سے یہ کہا جا رہا ہے کہ تم اقرار کر لو کہ ہم مسلمان نہیں۔ہم کیسے اقرار کر لیں مہدی علیہ السلام تو مبعوث ہی اس غرض سے ہوئے ہیں کہ اسلام کے چہرے پر جوگر د ڈال دی گئی ہے اس سے اسلام کے چہرے کو صاف کر کے اور اسلامی تعلیم میں ، عقائد میں اور اعمال میں جو بدعتیں اور بد رسوم شامل کر دی گئی ہیں ان سے ان کو پاک اور صاف کر کے اسلام کا خالص اور حسین چہرہ دنیا کے سامنے پیش کریں اور یہ دعویٰ مرزا غلام احمد (مہدی معہود علیہ الصلوۃ والسلام ) نے نہیں کیا بلکہ یہ بشارت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دی تھی۔