خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 401 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 401

خطبات ناصر جلد ششم ۴۰۱ خطبہ جمعہ ۹ ۱۷ پریل ۱۹۷۶ ء طاقت سے بے شمار گنا زیادہ اس کے اس رب کی طاقت ہے جس پر وہ ایمان لایا اور جس کے حضور أَسْلَمْتُ وَجْهِيَ لِلَّهِ کے مطابق اس نے اپنا سب کچھ پیش کر دیا اور اس کے سپر د کر دیا، وہ آپ کو کیسے ضائع کر دے۔اس واسطے قانون شکنی کا تخیل بھی نہیں آنا چاہیے۔میں یہ نہیں کہتا کہ احمدی قانون توڑنے پر عملاً تیار ہو جائیں گے مجھے جو خطرہ محسوس ہوتا ہے اور جس وجہ سے میں آپ کی خاطر استغفار کرتا رہتا ہوں وہ یہ ہے کہ کہیں آپ کے دماغ میں بھی یہ بات نہ آئے کہ کیا ان حالات میں پھر قانون توڑنا جائز ہو جائے گا جبکہ قانون کا رکھوالا جس کو ہم افسر کہتے ہیں وہ خود اپنے ملک کے قانون کو توڑ رہا ہے نہیں! اگر وہ قانون کو توڑ رہے ہیں تب بھی آپ لوگ وہم بھی نہ کریں کہ آپ نے قانون کو توڑنا ہے اور وقف عارضی کے جو وفود باہر جائیں وہ خاص طور پر یہ نوٹ کریں اور دوستوں سے یہ باتیں کریں کہ یہ ہماری تعلیم ہے اور ہم ملک میں کسی طور پر بھی فتنہ وفساد پیدا نہیں ہونے دیں گے خواہ حالات کیسے ہی کیوں نہ پیدا کر دیے جائیں۔یہ بھی ممکن ہے کہ بعض لوگ جو اپنی جہالت کی وجہ سے یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ہم سے دشمنی رکھتے ہیں اور وہ ہمارے دشمن ہیں وہ جانتے بوجھتے ہوئے ایسا ماحول پیدا کرتے ہوں کہ جس سے احمدی بھڑکیں اور اس طرح جماعت کو نقصان پہنچے۔ہم قانون شکنی سے باز رہیں گے اس لئے نہیں کہ قانون شکنی سے اس رنگ میں جماعت کو نقصان پہنچے گا جس رنگ میں کہ وہ سوچ رہے ہیں بلکہ اس لئے کہ قانون شکنی سے ہمارا خدا ہم سے ناراض ہو جائے گا اور خدا تعالیٰ کی چھوٹی ناراضگی بھی ہمیں برداشت نہیں ہے۔پس خدا کے خوف سے نہ کہ دنیا اور دنیا داروں کے خوف سے یاد نیا کے جو افسر لوگ ہیں ان کے خوف سے، ہم نے قانون شکنی سے باز رہنا ہے خدا کے خوف سے۔خَشْيَةُ اللهِ کے نتیجہ میں تقویٰ اللہ کے نتیجہ میں ہم نے قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کا تصور بھی اپنے دماغ میں نہیں لانا۔یہ دنیا سے تعلق رکھنے والی بات ہے لیکن ہے اسلامی تعلیم کی اساس پر۔یعنی بظاہر اس کا تعلق اس دنیوی زندگی سے ہے لیکن اس کی بنیاد وہ اسلامی تعلیم ہے جو ہمیں دی گئی ہے کہ دنیا میں فتنہ اور فساد نہیں کرنا۔اس زمانہ میں جس میں کہ مہدی علیہ السلام آچکے ہیں اس میں تو نوع انسانی کو ایک اُمتِ واحدہ اور ایک خاندان بنانے کا کام ہمارے سپرد کیا گیا ہے اور ہم نے پیار سے انسانیت