خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 400
خطبات ناصر جلد ششم ۴۰۰ خطبہ جمعہ ۹ ا پریل ۱۹۷۶ء کے ساتھ قدم آگے بڑھانے شروع کئے۔اب جیسا کہ مشاورت پر بھی جماعت کے ذمہ دار عہد یداروں اور نمائندوں کے سامنے یہ بات لائی گئی تھی اس میں کچھ سستی پیدا ہوگئی ہے اس کی طرف توجہ دلائی گئی تھی اور دراصل تو میں سمجھا کہ مجھے خدا تعالیٰ نے توجہ دلائی ہے کیونکہ یہ تو میرا کام ہے کہ میں جماعت کو کہوں کہ اس طرف توجہ کریں اور یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ جب میں ان کو توجہ دلاتا ہوں تو وہ پوری تندہی کے ساتھ توجہ کرتے ہیں۔میں جو بات بھی دین کے لئے اور خدا کے پیار کے حصول کے لئے کہوں وہ اس کو مانتے ہیں اور بشاشت کے ساتھ مانتے ہیں۔اس وقت ہم کئی لحاظ سے نازک وقت میں سے گزر رہے ہیں چنانچہ اس وقت دو باتیں بڑی اہم ہیں اور یہ باتیں جماعت کو ہمیشہ مد نظر رکھنی چاہئیں۔ایک چیز تو ہمارے ملک کے ساتھ تعلق رکھتی ہے ہمارے ملک میں جو حالات پیدا ہوئے اس کے نتیجہ میں جو چھوٹے چھوٹے افسر لوگ ہیں انہوں نے احباب جماعت کو تنگ کرنا ملک کی ترقی کا ایک ذریعہ سمجھ لیا ہے۔ان کو غلط نہی ہے اور وہ ایسا ماحول پیدا کر رہے ہیں کہ مجھے بعض دفعہ یہ خطرہ محسوس ہوتا ہے کہ جو بنیادی تعلیم ہمیں اسلام نے دی ہے اور جس بنیادی تعلیم کی طرف بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام حضرت مہدی معہود علیہ الصلوۃ والسلام ( آپ دو حیثیتوں میں آئے ) نے ہمیں بلایا اور آپ نے جماعت کو شروع سے ہی پہلے دن سے ہی یہ تلقین کی اور سلسلہ کی یہ روایت ہے کہ قانون کو اپنے ہاتھ میں نہیں لینا۔قانون شکنی نہیں کرنی بلکہ قانون کی پابندی کرنی ہے۔مجھے یہ فکر رہتی ہے کہ ایسا نہ ہو کہ ان لوگوں کے رویہ کے نتیجہ میں جن کو میں چھوٹے درجے کے افسر کہتا ہوں بعض جو شیلے نوجوان کسی وقت غصہ میں آکر یہ سمجھنے لگیں کہ ہم قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کے مجاز بن گئے ہیں۔بالکل نہیں ہرگز نہیں۔پس آپس میں یہ باتیں کر کے اور سوچ کے اور اس پر غور کر کے اور پوری توجہ کے ساتھ اس بنیادی چیز کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے نفسوں پر کنٹرول کرو اور ان کو اپنے قابو میں رکھو۔جس طرح ایک اچھا شہسوار گھوڑے کو اپنے قابو میں رکھتا ہے اسی طرح اپنے نفسوں کو قابو میں رکھتے ہوئے انہیں غلط راہوں پر پڑنے سے روکنا چاہیے۔ہماری پناہ ان حالات میں ہمارا مولیٰ ہے اور ایک معمولی عقل رکھنے والا احمدی بھی اچھی طرح یہ جانتا ہے کہ اس کی اپنی