خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 395 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 395

خطبات ناصر جلد ششم ۳۹۵ خطبہ جمعہ ۱٫۹ پریل ۱۹۷۶ء وہ لوگ مثلاً حضرت نوح علیہ السلام کے پیرو کار یا حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت کو ماننے والے اگر اُن مطالبات کو پورا کرتے جو اُن سے کئے گئے تھے تو وہ اُن فضلوں کے وارث بن جاتے جو ان مطالبات کے پورا کرنے اور کامل فرمانبرداری کے نتیجہ میں ان کو ملنے تھے اور جن کی بشارت ان کو دی گئی تھی۔پھر ایک ایسی شریعت جس نے انسانی فطرت کا احاطہ کیا ہوا ہے اور فطرت کے عین مطابق ہے اور ایک کامل شکل میں انسان کے تمام قومی کو طاقت دینے کی اہلیت رکھنے والی ہے۔پوری کی پوری شریعت جو انسان کے لئے مقد رتھی وہ ایک کامل اور عظیم ہستی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے انسان کو ملی اور یہ مطالبہ کیا گیا کہ اسلام لاؤ یعنی خدا میں فنا ہو کر اپنے سارے وجود کو اُس کے سپرد کر دو پھر تمہیں اتنے فضل ملیں گے کہ پہلوں کا تصور بھی وہاں تک نہیں پہنچ سکتا تھا۔قرآن کریم کی اس آیت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اللہ تعالیٰ نے یہ کہا ہے کہ لوگوں کو کہہ دے کہ میں تو اپنے تمام وجود کو خدا کے حضور پیش کرنے والا ہوں اور جو میرے حقیقی متبع ہیں وہ بھی اللہ تعالیٰ کی کامل فرمانبرداری کرنے والے ہیں لیکن چونکہ انسان اپنے اندر بشری کمزوریاں بھی رکھتا ہے اس واسطے ذکر کا حکم ہے کہ قرآن کریم نے جو مطالبے کئے ہیں ، چھوٹے چھوٹے بھی اور بڑے بڑے بھی ان کی یاددہانی ہوتی رہے ورنہ انسان بھول جاتا ہے، اس کے ذہن سے محو ہو جاتا ہے۔شیطان وساوس پیدا کر دیتا ہے اور عملی کمزوریاں پیدا ہو جاتی ہیں۔میں نے دیکھا ہے کہ اعتقاداً بڑے ہی مخلص احمدی ایسے بھی ہیں جو اعمال کی طرف توجہ نہیں کر رہے لیکن اعتقادی لحاظ سے وہ اتنے مخلص ہیں کہ اگر اعتقاد پر جان دینے کا موقع ہو تو وہ اپنی جان بھی دے دیں گے اور سب کچھ قربان کر دیں گے لیکن عملاً خود ان کی زندگیوں میں سستی پائی جاتی ہے۔یہ اندرونی تضاد اور Contradiction ہے اور اندرونی تضاد کامیابی تک نہیں پہنچاتا۔قرآن کریم نے اس مضمون کو بڑے لطیف پیرایہ میں مختلف مقامات پر بیان کیا ہے کہ ناکامی کی بڑی اور بنیادی وجوہات میں سے تضاد کا پایا جانا اور Contradiction کا پایا جانا ہے۔چیئر مین ماؤزے تنگ نے بھی کہیں یہ کہا ہے کہ Contradiction نہیں ہونی چاہئیں