خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 382
خطبات ناصر جلد ششم ۳۸۲ خطبه جمعه ۱۷۲ پریل ۱۹۷۶ء بدی کو دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہی وہ لوگ ہیں لَهُمْ عُقْبَى الدَّارِ 66 وو کہ جن کا انجام بہترین ہوتا ہے۔اگلی آیات میں اس دار “ کا ذکر ہے اور ان جنات “ کو بیان کیا گیا ہے جن کا کہ وعدہ دیا گیا ہے۔انسان اللہ تعالیٰ سے جو کچھ حاصل کرتا ہے وہ جب اسی کی راہ میں اسے خرچ کرتا ہے تو اس میں اس کے اوقات بھی آجاتے ہیں ، اس میں اس کی ذہنی صلاحیتیں بھی آجاتی ہیں اس میں اس کی جسمانی قوتیں بھی آجاتی ہیں اس میں اس کی اخلاقی طاقتیں بھی آجاتی ہیں اور اس میں اس کی روحانی استعدادیں بھی آجاتی ہیں جو کچھ بھی اللہ تعالیٰ نے دیا ہے اسے مومن اس کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اور ثبات قدم دکھاتے ہیں اور آگے ہی آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں اور جب ان کے اعمال، جب ان کی کوششیں، جب ان کی جدو جہد مقبول ہو جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو جاتا ہے تو انہیں زیادہ سے زیادہ انعام حاصل ہوتے ہیں۔جو کچھ مومن خرچ کرتے ہیں اس میں ان کے اموال بھی شامل ہیں۔خدا تعالیٰ کی راہ میں اموال کا خرچ ایک تو یہ ہے کہ کسی ایسی راہ میں یا کسی ایسے طریق پر یا کسی ایسی جگہ مال کو خرچ نہ کیا جائے جو خدا تعالیٰ کے احکام کے خلاف ہو مثلاً اسراف نہ ہو یا مثلاً ایسی بداخلاقیوں پر یا عیاشیوں پر یا دنیا کی معیوب مسترتوں پر جود نیا خرچ کرتی ہے اس قسم کا خرچ نہ ہو کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کی راہ میں نہیں ہے اور یہاں پر اللہ کی راہ میں اللہ کی رضا کے حصول کے لئے ہی ساری باتوں کا ذکر ہے۔اسی واسطے اس آیت کو شروع ہی خدا تعالیٰ کی رضا کی طلب میں ثبات قدم دکھانے کے مضمون سے کیا گیا ہے۔پس ہر وہ جگہ جہاں خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے اس کا عطا کردہ مال یا دولت خرچ کی جاتی ہے اس سے ثواب حاصل ہوتا ہے مثلاَولِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَق پر عمل کرتے ہوئے اپنی صحت کو برقرار رکھنے کے لئے مناسب اور متوازن اور صحت مند غذا کھانا خدا تعالیٰ سے ثواب کو حاصل کرنا ہے۔بشرطیکہ نیت یہ ہو کہ ہم خدا کی خاطر اس کی رضا کی طلب میں اور اس کی اطاعت میں خرچ کر رہے ہیں کیونکہ حکم یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے قائم کردہ اپنے نفس کے حقوق کو بھی اسی طرح ادا کرنا ہے جس طرح کہ خدا تعالیٰ کے قائم کردہ غیروں کے حقوق کو ادا کرنا ہے۔اگر ایک شخص اسراف اور ریا