خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 381 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 381

خطبات ناصر جلد ششم ۳۸۱ خطبہ جمعہ ۱/۲ پریل ۱۹۷۶ ء جس نے خدا کی رضا کے لئے اپنی استعداد کے مطابق خرچ کیا خدا نے اُس کے گھر کو فضلوں سے بھر دیا خطبہ جمعہ فرموده ۲ را پریل ۱۹۷۶ء بمقام مسجد اقصی۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے سورۃ رعد کی درج ذیل آیت کی تلاوت فرمائی:۔وَ الَّذِينَ صَبَرُوا ابْتِغَاءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ وَأَقَامُوا الصَّلوةَ وَ أَنْفَقُوا مِمَّا رَزَقْنَهُمْ سِرًّا وَعَلَانِيَةً وَيَدْرَءُونَ بِالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ أُولَبِكَ لَهُم عُقْبَى الدَّارِ - (الرعد : ٢٣) اس کے بعد فرمایا :۔اللہ تعالیٰ نے سورۃ رعد کی اس آیت میں بعض بنیادی تعلیمات کا ذکر فرمایا ہے۔ان میں سے ایک تو یہ ہے کہ مومن اپنے رب کی رضا کی طلب میں ثبات قدم دکھاتے ہیں اور ان میں استقامت پائی جاتی ہے اور دوسرے یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتے ہیں اور ”الصلوۃ“ کو ادا کرتے ہیں اور اسے قائم رکھتے ہیں اور تیسری بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں جو کچھ بھی عطا کیا ہے اس میں سے وہ خرچ کرتے ہیں سر او عَلَانِيَةً یعنی اس رنگ میں بھی خرچ کرتے ہیں کہ ان میں ریاء کا کوئی شائبہ پیدا نہ ہو اور اس طور پر بھی کہ وہ دوسروں کے لئے نمونہ اور اسوہ بنیں اور جب بدی کے ساتھ ان کا مقابلہ ہو تو وہ بدی کے مقابلہ میں بدی نہیں کرتے بلکہ نیکی کے ذریعہ سے