خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 369
خطبات ناصر جلد ششم نہ چاہتا تو انسان کبھی آزاد نہ ہوتا۔۳۶۹ خطبہ جمعہ ۵ / مارچ ۱۹۷۶ء انسان کے بارے میں تقدیر اور اندازے کے متعلق قرآن کریم میں بیسیوں آیات ہیں پہلے مجھے خیال آیا کہ میں ایسی تیس آیات منتخب کر کے انہیں اس خطبے کا حصہ بنا دوں لیکن پھر میں نے سوچا کہ پہلے میں اصولی بات ذہن نشین کرانے کی کوشش کروں اور اس کے بعد دوسری طرف آؤں۔پس قرآن کریم ان آیات سے بھرا پڑا ہے جن سے ہمیں پتہ لگتا ہے کہ انسان کو اپنے عمل کی جزا ملے گی مثلاً ایک آیت یہ ہے کہ تم میں سے جو بھی اعمال صالحہ بجالائے گا مرد ہو یا عورت اس کو ان کے مطابق جزا ملے گی۔میں نے بتایا ہے کہ قرآن کریم میں بیسیوں آیات ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انسان مجبور نہیں ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس پر جبر کا قانون لاگو نہیں ہے بلکہ اس کو صاحب اختیار بنایا گیا ہے اور اس کو آزادی دی گئی ہے لیکن اس کو ایک اندازے کے مطابق آزادی دی گئی ہے اور فَقَدرَة تَقْدِيرًا میں اس کا اعلان کیا گیا ہے اور قرآن کریم ایسی آیات سے بھرا پڑا ہے۔تم میں سے کوئی شخص اپنی غفلتوں میں زندگی گزارتے ہوئے خدا تعالیٰ پر یہ الزام نہیں دھر سکتا کہ اس نے ہمیں پیار کیوں نہیں دیا حالانکہ ہم تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق مہدی پر ایمان لے آئے تھے۔تمہیں صرف یہ حکم تو نہیں دیا گیا تھا کہ ایمان لاؤ بلکہ تمہارے لئے اس دائرہ استعداد کے اندر جس میں تمہیں آزاد کیا گیا ہے ہزاروں راستے ایسے کھولے گئے تھے جن میں سے ہر راہ کو اختیار کرنے یا نہ کرنے میں تم آزاد تھے اور تمہیں کہا گیا تھا کہ اگر تم ان کو اختیار کرو گے تو تمہیں ثواب مل جائے گا اور اگر تم ان کو اختیار نہیں کرو گے تو جس حد تک تم ان راہوں کو اختیار نہیں کرتے اس حد تک تم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے مستحق نہیں ٹھہرو گے۔اسی طرح ہزا ر ہا راستے تمہارے اوپر بند کئے گئے تھے اور کہا گیا تھا کہ یہ کام نہیں کرنے ، یہ خدا تعالیٰ کو ناراض کرنے والی باتیں ہیں اگر ان ممنوعہ راہوں میں سے بعض راہوں کو تم اختیار کرو تو خدا تعالی کا غضب تم پر آئے گا لیکن یہ اس لئے نہیں کہ تم مجبور ہو بلکہ اس لئے کہ تمہیں آزادی دی گئی تھی کہ تم چاہو تو ان غلط راہوں کو جو خدا تعالیٰ کے غضب اور قہر کی طرف لے جانے والی ہیں اختیار کر لو۔تم آزاد تھے تم نے خود اپنے لئے جہنم کے سامان پیدا کر لئے لیکن اگر تم ہر غلط راہ سے