خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 370
خطبات ناصر جلد ششم ۳۷۰ خطبہ جمعہ ۵ / مارچ ۱۹۷۶ء بچو اور تقویٰ کی راہ کو اختیار کرو تو پھر نیکی کی راہیں تمہارے لئے آسان ہو جائیں گی۔پس قضا و قدر کا جو مسئلہ اسلام پیش کرتا ہے بلکہ وہ انسان کو صاحب اختیار بنانے کا مسئلہ ہے وہ انسان کو ایک دائرے کے اندر آزاد رکھنے کا مسئلہ ہے وہ انسان کی دینی اور دنیوی ترقیات کی را ہیں کھولنے کا مسئلہ ہے۔یہ مسئلہ اتنا عظیم ہے کہ دنیا کا کوئی مذہب اس کے مقابلے میں نہیں ٹھہر سکتا، نہ عیسائیت نہ یہودیت اور نہ کوئی اور مذہب اور نہ کوئی عقل انسانی کا تراشیدہ علم اس کے مقابلے میں ٹھہر سکتا ہے۔جس جگہ عیسائیوں نے قضا و قدر کی وجہ سے یہ اعتراض کیا کہ اسلام جبر کی تعلیم دیتا ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی کتب میں اس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے اس جگہ اسلام کی عظیم شان بیان کی اور اسلام کے حسن کو دنیا کے سامنے رکھا۔اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اس کے سمجھنے اور ہمیشہ اسے یادرکھنے کی توفیق عطا کرے کیونکہ انسان کو بعض دفعہ شیطان اس طرح بھی ورغلاتا ہے کہ انسان خود گناہ کرتا ہے لیکن کہتا ہے کہ کیا کریں بس تقدیر تھی اس لئے گناہ ہو گیا۔خدا تعالیٰ نے تمہارے لئے یہ مقدر نہیں کیا کہ تم گناہ کرو بلکہ خدا تعالیٰ نے تمہارے لئے یہ مقدر کیا ہے کہ چاہوتو گناہ کرو چاہو تو گناہ سے بچو، چاہوتو نیکیاں کرو اور چاہوتو نیکیاں کرنے سے انکار کرو اور جب تم اپنے اختیار سے نیکیاں کرو گے تو خدا تعالیٰ دوڑتا ہوا آئے گا اور تمہیں اپنے دامن رحمت میں لپیٹ لے گا ورنہ تم خود ذمہ دار ہو اور خدا تعالیٰ پر یا کسی انسان پر اس کا الزام نہیں دھرا جا سکتا۔پس اپنی اس آزادی اور اس اختیار کی قدر کو پہچانو جو خدا تعالیٰ نے اپنی تقدیر اور قضا و قدر میں تمہارے لئے مہیا کیا ہے اور خدا تعالیٰ کی نعمتوں کے حصول کے لئے ہمیشہ کوشاں رہو۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا کرے اور خدا سے ہمیں مقبول اعمال کی توفیق ملے اور وہ اپنی نعمتوں سے ہمیں نوازے۔روز نامه الفضل ربوه ۱۵ جون ۱۹۷۶ صفحه ۲ تا ۵)