خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 363
خطبات ناصر جلد ششم ۳۶۳ خطبہ جمعہ ۵ / مارچ ۱۹۷۶ء ایک موسم میں یا ایک سال میں تو نہیں نکل آتے بلکہ کچھ جھڑتے ہیں اور کچھ نکلتے ہیں۔اس کے کچھ اسباب ہیں اور اس کی کوئی علل ہیں اور یہ ان کے معلول بن جاتے ہیں اور اسی طرح ایک سلسلہ چلتا ہے۔میں نے پچھلے خطبے میں دعا کے سلسلے میں ایک اور رنگ میں اس کے متعلق بتایا تھا۔آج میں جبر کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں۔فَقَدرَة تَقْدِيرًا میں یہ بتایا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ نے ہر چیز کا ایک اندازہ مقرر کر دیا ہے اس اندازہ کی وجہ سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ انسان صاحب اختیار نہیں رہا بلکہ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انسان کے اختیارات ایک اندازہ کے مطابق ہیں اور وہ اپنے اختیارات میں اس اندازہ سے باہر نہیں جاسکتا اور اس کو یہ اختیارات دینا بھی کہ اس دائرہ کے اندر انسان آزاد ہے یہ بھی خدا تعالیٰ کی تقدیر ہے۔جب خدا تعالیٰ نے انسانی فطرت کا اور انسانی خو کا اندازہ کیا تو اس کا نام اس نے تقدیر رکھا جس کا اس آیت میں ہمیں علم دیا گیا ہے اور اندازہ یہ ہے کہ فلاں حد تک انسان اپنے اختیارات برت سکتا ہے اس سے زیادہ نہیں۔بڑی موٹی چیز ہے۔بچے بھی اس کو سمجھ جائیں گے کہ ہمیں یہ اختیار نہیں ہے کہ ہم ہوا کے بغیر زندہ رہ سکیں۔ہم سانس روک لیں اور سانس لیں ہی نہ اور پھر بھی زندہ رہ سکیں یہ ہمارے اختیار میں نہیں ہے۔اسی طرح ہمیں خدا تعالیٰ نے یہ اختیار نہیں دیا کہ ہم پانی نہ پئیں اور اپنی حیات کو قائم رکھ سکیں کیونکہ پانی کو ایک سبب اور علت بنایا گیا ہے۔خدا تعالیٰ کی قدرت میں اور اس کے جو آثار الصفات ظاہر ہوئے ہیں ان کے اندر پانی کو حیات کے قائم رکھنے کا ایک سبب بنایا گیا ہے۔قرآن شریف نے اس پر دوسری آیات میں روشنی ڈالی ہے۔پھر غذا ہے ہمارے علم میں ماریشس کی بعض بڑی تیز مرچیں بھی آتی رہی ہیں۔خدا تعالیٰ نے تمہیں یہ اختیار نہیں دیا کہ تمہارے معدے میں سوزش ہو اور پیچیش کی وجہ سے انتڑیوں میں خراش آئی ہوئی ہو اور تم ماریشس کی ایک چھٹانک تیز مرچیں کھالو اور تمہیں تکلیف نہ ہو تمہیں یہ اختیار نہیں ہے۔