خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 358 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 358

خطبات ناصر جلد ششم ۳۵۸ خطبہ جمعہ ۲۷ فروری ۱۹۷۶ء دعا ہوتی ہے۔آپ نے فرمایا ہر نئے علم کا جو دروازہ کھلتا ہے وہ درحقیقت خدا کی کسی نہ کسی صفت کا ظہور ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ کو گالیاں دینے والے بھی دراصل کسی نامعلوم منبع کی تلاش میں ہیں۔جو لوگ دن رات دنیوی کوشش میں لگے ہوئے ہیں اور سالہا سال کی کوششوں کے بعد کوئی چیز حاصل کرتے ہیں ان کی یہ کوشش کسی نامعلوم منبع سے کہتی ہے کہ مجھے کوئی چیز ملے کوئی اور صداقت اس پر ظاہر ہولیکن ایک عارف اپنے رب کو پہچانتا ہے، وہ اپنے رب کے حضور جھکتا ہے ، وہ اپنے رب کی خاطر دنیا کو چھوڑتا ہے، اپنے رب کی طرف انقطاع کرتا ہے اور خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرتا ہے اور دعا کے ذریعہ اپنا مطلب خدا تعالیٰ سے حاصل کر لیتا ہے۔غرض اسلام نے اجتماعی زندگی میں بھی اور انفرادی زندگی میں بھی ایک بڑا عظیم مقام ہمارے سامنے رکھا ہے اور وہ مقام دعا کا مقام ہے۔پس میں اپنے دوستوں سے کہتا ہوں کہ وہ دعا کریں اور ایسے رنگ میں دعا کریں کہ وہ قبول ہو۔وہ خود بھی خدا کی قدرتوں کے نشان دیکھیں اور دنیا کو بھی دکھا ئیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فارسی کے ایک شعر میں فرمایا۔ع از دعا کن چاره آزار انکار دعا فرمایا اے شخص! اگر تجھے انکار دعا کی بیماری لگ گئی ہے اور تو دعا میں ایمان نہیں رکھتا تو اس کا علاج بھی دعا سے کر۔یہ ایک بڑی بنیادی حقیقت ہے اس لئے جن لوگوں کو اس کو چے کی کچھ خبر نہیں ان کو خدا تعالیٰ سے دعائیں کر کے اس مقام کو حاصل کرنا چاہیے۔میں اپنے دوستوں سے ایک بار پھر کہتا ہوں کہ وہ ذرا سوچیں ہم پر کتنی بڑی ذمہ داری ہے۔ساری دنیا کومحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع کرنا کوئی آسان کام نہیں۔وہ دنیا جو ہماری نسبت بے شمار گنا زیادہ دولت کی مالک ہے، سیاسی اقتدار کی مالک ہے مہلک ترین ہتھیاروں کی مالک ہے ہم تو انسان پر ایک ڈنڈا بھی نہیں چلانا چاہتے اور وہ ایٹم بم بھی استعمال کر لیتے ہیں۔اس دنیا کو اسلام کی طرف کھینچ کر لانا اور اس پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن و احسان کو ظاہر کر کے ان کو حلقہ بگوش اسلام بنانا یہ کوئی آسان کام نہیں ہے۔ہماری خواہش ہے ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ غلبہ اسلام کے دن قریب ہیں۔ہم اپنے بچوں کو بھی کہتے ہیں کہ تمہیں بشارت ہو لیکن وہ