خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 17
خطبات ناصر جلد ششم ۱۷ خطبه جمعه ۱۰ / جنوری ۱۹۷۵ء کرتے ہوئے سوچتے ہوئے وہ پہلو آپ کے سامنے آئیں گے۔آپ کو پتہ لگے گا کتنا عظیم ہے محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، اور کس قدر عظیم شریعت اور ہدایت ہے جو آپ لے کر آئے اور قرآن کریم جس نے اپنے اندر ہر اندھیرے کو دور کرنے کا سامان اور نور لپیٹا ہوا ہے وہ اندھیرے جو انسانوں کے بہکانے کا موجب بن گئے یا بن رہے ہیں اور وہ اندھیرے بھی جو آئندہ کبھی انسان کی ٹھوکر کا باعث بن سکتے ہیں اور بہکنے کا باعث بن سکتے ہیں ان اندھیروں کے دور کرنے کا سامان بھی قرآن کریم کے اندر موجود ہے۔بہر حال اس سال کا پروگرام ہے یعنی ہمارا صد سالہ جو بلی کا جو منصوبہ ہے جس کا اب پہلا سال گزر چکا ہے اور اب پندرہ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ چودہ سال باقی رہ گئے ہیں کیونکہ پچھلا ایک سال تو ہم نے گزار دیا ہے اور پہلا سال تھا مالی میدان میں وعدوں کا اور حصے کے پورا کرنے کا۔اس میں کام ہوا اور وہ مکمل ہو گیا۔اس کام میں جماعت میں ایک حرکت پیدا ہوگئی اور دوستوں نے وعدے کرنے میں کمال کر دیا۔میں نے بتایا ہمارے لئے حمد کے سامان پیدا کئے اور حیرانی کے سامان پیدا کئے۔خدا تعالیٰ نے اتنی طاقت دی کہ حیرانی کے نتیجہ میں ہی حمد جو ہے وہ جوش مارتی ہے اور بعض کے لئے پریشانی تھی کہ یہ کیا ہو گیا۔اتنی طاقتور ہوگئی جماعت۔ہمارا دوسرا سال اب مارچ سے شروع ہوگا اور اس کے بعد چودہ سال باقی رہ جائیں گے تو ان پندرہ سال میں سے پہلا سال مالی میدان میں تیاری کرنے کا تھا۔دوسرا سال علمی میدان میں تیاری کا ہے کہ جو ہدایت اور جونور اور جو روشنی اللہ تعالیٰ نے اسلام میں ہمارے لئے رکھی۔جسے ہم نے مہدی علیہ السلام کے ذریعہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طفیل حاصل کیا ہے۔وہ روشنی کہیں ہماری آنکھوں سے اوجھل نہ ہو جائے۔اس لئے تم پکے ہو جاؤ خود بھی اور پکے کرو اپنی نسلوں کو بھی اور اُن کو بھی جو ہمارے اندر شامل ہو رہے ہیں۔اس کے لئے فوری کام شروع ہونا چاہیے کچھ میری بھی خواہشات ہیں اور ارادے ہیں۔ان کے لئے میں بھی دعا کر رہا ہوں۔آپ بھی دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے توفیق دے کہ کچھ میں بھی