خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 349 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 349

خطبات ناصر جلد ششم ۳۴۹ خطبہ جمعہ ۲۷ فروری ۱۹۷۶ء خدا تعالیٰ کی غیر محدود قدرتیں کارفرما ہیں۔خدا تعالیٰ کی قدرتوں کو اپنی عقل سے باندھنا اور ان کی حد بست کرنا یا ان کو محدود قرار دینا گویا خدائی کا دعوئی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں اگر آدمی آثار صفات الہیہ کی حد بندی کرنے لگ جائے تو یہ خدا سے بڑا بننے والی بات ہے۔اس وقت دنیا میں جو علمی اور سائنسی ترقی ہو رہی ہے اس میں بھی قانون قدرت جلوہ گر ہے مثلاً فزکس ہے اس میں آئے دن کئی ایسے اصول وضع ہوتے رہتے ہیں جن کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ یہ قانون اس کی بھی بنیا د تھا جس کا ہمیں علم تھا۔ہمارے علم میں جو سب سے گہرا اور بنیادی اصول پایا جاتا تھا اس کے نیچے ایک اور اصول کام کر رہا تھا جو پہلے ہمارے علم میں نہیں تھا اب ہمیں اس کی سمجھ آئی ہے۔خدا تعالیٰ کے بنائے ہوئے جو سامان ہیں یا جو آثار الصفات ہیں جن کے متعلق ہم یہ کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے ان کو قضا و قدر میں باندھا ہوا ہے ہم ان کا احاطہ نہیں کر سکتے کیونکہ جو مادی سامان یا اسباب ہیں ان کے پیچھے ایک اور سبب کام کر رہا ہے اور پھر اس کے پیچھے اور سبب ہے اور اس کے پیچھے اور سبب ہے۔یہ ایک لمبا سلسلہ جاری ہے۔ایک وقت میں ہم نے کہا ہمارے علم کے لحاظ سے فلاں چیز سے فلاں چیز پیدا ہوئی، اس سے یہ، اُس سے یہ اور اس سے یہ چیز پیدا ہوئی اور پھر وہ آخری شکل میں ہم تک پہنچ گئی لیکن پھر اگلے دن ہمیں پتہ لگتا ہے کہ وہ چیز جس کو ہم نے بنیادی سمجھا تھا وہ بنیادی نہیں اس کے نیچے ایک اور اصول کام کر رہا ہے۔باوجود اس علم کے کہ خدا کی قدرتوں کی کوئی حد بست نہیں پھر بھی ہم قانون قدرت کا جتنا ہمیں علم ہے اس سے ہم فائدہ اٹھا رہے ہیں۔انسان کے جسم سے تعلق رکھنے والی طلب جاننے والوں نے ایک وقت میں یہ کہا کہ جو معدنیات ہیں ان کا ہمارے جسم کے ساتھ کیا تعلق ہے کیونکہ ان کی اصطلاح میں انسانی جسم Organic ہے اور دوسری اشیاء Inorganic ہیں۔ان کا آپس میں کوئی تعلق نہیں لیکن اب ایک اور بڑا ضروری اصول نکل آیا اور لوگوں کو یہ پتہ لگ گیا کہ معدنیات کے بغیر انسانی صحت قائم نہیں رہتی۔غرض موجودات میں جتنے آثار الصفات پائے جاتے ہیں وہ سب خدا تعالیٰ کی قدرتوں کے