خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 344
خطبات ناصر جلد ششم ۳۴۴ خطبہ جمعہ ۲۷ فروری ۱۹۷۶ء قرآن کریم نے دعائیں کرنے کا حکم دیا ہے اس واسطے یہ عقیدہ ظاہر کیا گیا کہ دعا کسی مطلوب شے کو تو حاصل نہیں کرتی مثلاً کسی کا بچہ بیمار ہے۔اس کے والدین، عزیز دوست اُس کے لئے دعائیں کرتے ہیں تو عقیدہ یہ ظاہر کیا گیا کہ اگر بچے کی صحت قضا و قدر کے لحاظ سے مقدر نہیں تو دعاؤں سے بچہ اچھا نہیں ہوگا تو پھر دعا کا حکم کیوں دیا گیا؟ وہ کہتے ہیں اس لئے دیا گیا کہ دعا ایک عبادت ہے ایک عبادت کا جتنا اثر ہوتا ہے اتنا ہوگا لیکن جو مطلوب شے ہے جس کے لئے دعا کی گئی ہے وہ نہیں ملے گی۔یہ ساری خرابیاں اس لئے پیدا ہوتی ہیں کہ قرآن کریم کی تعلیم پر غور نہیں کیا جا تا۔خدا تعالیٰ کی اس حسین اور ابدی شریعت پر جیسا کہ چاہیے انسان غور نہیں کرتا اور نہ ہی اُن مقربین الہی کی تقریروں، تحریروں اور تفسیروں سے فائدہ اٹھاتا ہے جو قرآن عظیم کے روحانی اسرار پر مشتمل ہوتی ہیں اور جنہیں وہ اللہ تعالیٰ سے سیکھ کر بنی نوع انسان کے سامنے پیش کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں دعا کی تاثیر سے انکار کرنے والوں کے خیالات نمایاں ہو کر اس لئے ابھرے کہ دنیا میں علوم پھیل رہے تھے اور بنی نوع انسان کا ایک حصہ دنیوی علوم میں ترقی کر رہا تھا۔مادی علوم کے اثر کے نیچے بعض باتوں کا جواب نہ دے سکنے کی وجہ سے جو اسلام کے متعلق کی جارہی تھیں اس قسم کے Escapes یعنی ذہنی طور پر بچاؤ یا اعتراضات سے بچنے کی کوششیں کی گئیں۔پہلے میں تمہید یہ بتا دیتا ہوں کہ ہر دعا قبول نہیں ہوتی اور یہ مسئلہ اسلام نے ہمارے سامنے رکھا ہے۔خدا تعالیٰ تمام قدرتوں کا مالک اور تمام صفات حسنہ سے متصف ہے اور بندہ کی حقیقت اس کے مقابلہ میں ایک ذرہ ناچیز کی بھی نہیں۔خدا اپنے فضل اور رحمت سے اپنے ان بندوں سے جو اس کی راہ میں اپنی زندگیاں گزارنے والے ہیں دوستوں کا سا سلوک کرتا ہے۔اب کہاں رب کریم اور کہاں اس کا ناچیز بندہ لیکن رب کریم نے یہ چاہا کہ اپنی مخلوقات میں سے اُن لوگوں کے ساتھ جو اس کی راہ میں فدا ہوتے ہیں اور جنہوں نے دنیا سے انقطاع کیا ہے ان کی طرف رجوع برحمت ہو اور ان سے دوستانہ پیار کا سلوک کرے اور اس کو دنیا پر ظاہر کرے۔