خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 343
خطبات ناصر جلد ششم ۳۴۳ خطبہ جمعہ ۲۷ فروری ۱۹۷۶ء دنیا اور کائنات کا ہر جز واللہ تعالیٰ کی کسی نہ کسی صفت کا مظہر ہے خطبه جمعه فرموده ۲۷ فروری ۱۹۷۶ء بمقام مسجد اقصیٰ۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔دس پندرہ روز سے مجھے دوران سر اور دردسر کے علاوہ معدے کی تکلیف چلی آ رہی ہے۔آج بھی اسی تکلیف ہی میں میں بعض حکمتوں کے مد نظر یہاں آ گیا ہوں اور اللہ تعالیٰ سے اُمید رکھتا ہوں کہ وہ مجھے توفیق دے گا اس سلسلہ مضمون کے بارہ میں کچھ کہنے کی جسے میں نے دو تین ہفتے پہلے شروع کیا تھا یعنی مسئلہ قضا و قدر۔اس سلسلہ میں پہلا خطبہ میں نے اپنی طرف سے سادہ زبان میں بچوں کو مخاطب کرتے ہوئے انہیں اس مسئلہ کے سمجھانے کی کوشش میں دیا تھا۔آج میں قضا و قدر اور دعا کا جو مسئلہ ہے اس کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں۔دنیا میں بعض لوگ ایسے پائے جاتے رہے ہیں اور پائے جاتے ہیں جنہوں نے اس خیال اور عقیدے کا اظہار کیا کہ دعا میں کوئی اثر نہیں اور نہ دعا سے کچھ حاصل کیا جاسکتا ہے اس لئے کہ ہر چیز قضا و قدر میں بندھی ہوئی ہے۔جو ہونا ہے وہ دعا کے بغیر ہی ہو جائے گا اور جونہیں ہونا کوئی شخص خواہ کتنی ہی دعا کرتا رہے اسے وہ چیز حاصل نہیں ہوگی کیونکہ وہ مقدر میں نہیں ہے؟ لیکن چونکہ