خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 336
خطبات ناصر جلد ششم ۳۳۶ خطبہ جمعہ ۱۳ رفروری ۱۹۷۶ء اس علاقے میں صرف پندرہ منٹ ژالہ باری ہوئی اور پانچ چھ مہینے کی فصلوں میں سے بعض کھیتوں میں سو فیصد گندم ٹوٹ کر زمین پر گر گئی اور تباہ ہوگئی اور کسی جگہ روپے میں سے بارہ آنے اور کسی جگہ روپے میں سے آٹھ آنے اور کسی جگہ چار آنے یعنی اس طرح کم و بیش نقصان ہوا۔شام کے وقت سورج غروب ہونے سے چند منٹ پہلے ژالہ باری ہوئی تھی۔یہاں ہماری زمین پر جو میرے کارندے کام کر رہے تھے وہ آئے ان کی آنکھوں میں آنسو تھے۔مجھے بڑا غصہ آیا وہاں انداز اروپے میں سے آٹھ آنے نقصان ہوا تھا میں نے کہا کہ تم یہ روتے ہو کہ فصل کے آٹھ آنے تباہ ہو گئے تم نے وہاں اللہ اکبر کا نعرہ کیوں نہیں لگایا کہ خدا نے تمہارے آٹھ آنے بچالئے۔آٹھ آنے تباہی کا مطلب ہے نا کہ آٹھ آنے بچ گئے اور یہ اس کا بڑا احسان ہے ہمارا تو کوئی زور نہیں ہے اور نہ ہمارا حق ہے اس پر ، اس نے بڑا فضل کیا ہے چنانچہ میں نے انہیں واپس بھیجا اور کہا کہ جاؤ اور آدھا گھنٹہ وہاں نعرہ ہائے تکبیر اللہ اکبر کی آواز بلند کرو اور الحمد للہ کا ورد کرو اور آدھے گھنٹے کے بعد آکر مجھے رپورٹ کرو کہ ہم نے یہ کام کر لیا ہے۔اللہ تعالیٰ بڑا فضل کرنے والا ہے اُس کی چیز تھی اُس نے لے لی۔پس اس قسم کے سبق دینے کے لئے قرآن کریم نے کہا کہ خدا کی تقدیر چلے گی۔ہوگا وہی جو خدا چاہے گا۔یہ تقدیر ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس دنیا میں سامان نہیں ہیں بلکہ وہ مستبب الاسباب ہے۔ایک سبب کے بعد دوسرا سبب آجاتا ہے لیکن ان تمام اسباب کو پیدا کرنے والا اللہ ہے وہ خود بخود نہیں پیدا ہو گئے۔پھر خدائی علم کے مطابق ہر چیز میں اندازے ہیں اور ان کا ایک دوسرے پر جو اثر ہوتا ہے اس کے متعلق اندازے ہیں مثلاً اگر پانچ دس اکائیوں کی یہ شکل بن جائے تو اس کا یہ نتیجہ نکلے گا اور اگر ذراسی شکل بدل جائے تو اس کا یہ نتیجہ نکلے گا۔ہوا کے اور فضا کے جو Depression (ڈیپریشن) ہیں ان کے ذرا ذرا سے فرق کے ساتھ ان کے مختلف نتیجے نکلتے ہیں اور ہواؤں کے راستے متعین ہوتے ہیں اور ہوا کے اندر تیزی پیدا ہوتی ہے اور وہی چیز جو بادلوں کو لانے کا سبب ہے وہ بعض دفعہ اتنی شدت اختیار کر جاتی ہے کہ ڈیڑھ سو میل فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے لگتی ہیں اور وہ مکانوں کو بھی اُڑا کر لے جاتی ہیں۔پس خدا تعالیٰ کو نظروں سے اوجھل نہ ہونے دینے کے لئے اور مسلمان کے دل میں تو حید خالص کو پیدا کرنے کے