خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 337 of 664

خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 337

خطبات ناصر جلد ششم ۳۳۷ خطبہ جمعہ ۱۳ فروری ۱۹۷۶ء لئے یہ تقدیر کا مسئلہ ہے اور اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ آخری علت جس سے کہ آگے سب کچھ چلا وہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔بديع السمواتِ وَالْأَرْضِ (البقرة : ۱۱۸) کہ خدا تعالیٰ نے ان آسمانوں اور زمین کو پہلے کسی نمونے کے بغیر پیدا کر دیا ہے وَإِذَا قَضَى أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ (البقرة: ۱۱۸) کہ جب وہ اپنے منصوبہ اور منشاء اور ارادہ کے مطابق عدم سے کوئی چیز وجود میں لانا چاہتا ہے تو گن کہتا ہے اور وہ ہو جاتی ہے اور دوسری جگہ فرمایا :۔خَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ فَقَدَرَةَ تَقْدِيرًا (الفرقان : ٣) کُن کہنے کی شکل قرآن کریم نے یہ بتائی ہے کہ اس نے سات زمانوں میں آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ۔پس كُنُ کا یہ مطلب نہیں ہے کہ خدا تعالیٰ نے اسباب نہیں بنائے اور ان کے بغیر ہی انہیں پیدا کیا بلکہ اس دنیا میں جس میں ہم رہتے ہیں یا مجھے کہنا چاہیے کہ اس عالمین میں ، اس کا ئنات میں اور اس یونیورس (Universe) میں جس کا انسان کے ساتھ تعلق ہے اس میں پیدا ہونا اور پھیلنا اور نشوونما پانا اسباب کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔جہاں تک اللہ تعالیٰ کی ذات کا تعلق ہے یہ درست ہے کہ اس نے گن کہا اور سارے انتظام ہونے لگے اور جہاں تک آخر میں انسان کا تعلق ہے ( یہ سارے عالمین خدا تعالیٰ نے انسان کے لئے پیدا کئے ہیں سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِي السَّبُواتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا منه (الجاثية : ۱۴) ہمارے لئے وہی چیز ان گنت اسباب کے نتیجہ میں پیدا ہوئی مثلاً ہمارے لئے ستاروں کی روشنی پیدا کی۔وہ بھی ہماری فصلوں پر اثر انداز ہوتی ہے اور بعض ستاروں کی روشنی کئی کھرب روشنی کے سالوں کے بعد زمین پر پہنچی ہے لیکن یہ نہیں کہہ سکتے کہ کن نہیں تھا بلکہ اُس وقت کُن ہو گیا تھا کہ تم نے روشنی پہنچانی ہے۔پھر ہر چیز میں اندازہ مقرر ہے مثلاً خدا نے یہ اندازہ رکھا ہے کہ روشنی ایک منٹ میں اتنا سفر طے کرے گی۔قدرة تقديرا سارے قوانین قدرت کے ساتھ خدا تعالیٰ نے اپنی تقدیر کو باندھ دیا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَقَضَى رَبُّكَ أَلا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ (بنی اسرآءيل: ۲۴) یہ قضا ہے اور یہ الہی تقدیر