خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 332
خطبات ناصر جلد ششم ۳۳۲ خطبہ جمعہ ۱۳ رفروری ۱۹۷۶ء کا سامان کیا جاتا ہے بعض ممالک میں زیادہ بارکھانا کھایا جاتا ہے اور بعض بیماروں کو ڈاکٹر کہتا ہے کہ ہر ڈھائی تین گھنٹے کے بعد کچھ نہ کچھ کھاؤ مگر تھوڑا کھاؤ بہر حال جسم میں ایک کمزوری کا احساس پیدا ہوتا ہے اور کھانے کی خواہش پیدا ہوتی ہے۔ایک عام آدمی کہتا ہے کہ کھانے سے میرا پیٹ بھر گیا اور کھانے نے میری بھوک دور کر دی یعنی جو آخری سبب تھا وہاں تک اس کی نظر گئی۔میں مثال میں بھی بعض مرحلے اور بعض Steps چھوڑ جاؤں گا تا مضمون زیادہ مغلق نہ ہو جائے۔بعض دوسرے علاقوں کو دیکھتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ ہمارے عوام بڑے محنت کش ہیں اور ان کی دانشمندانہ محنت نے ہماری قوم کی بھوک دور کر دی ہے مثلاً چین ہے یہ تو وہ خود مانتے ہیں کہ ساری بھوک ابھی دور نہیں ہوئی لیکن تاہم وہ بہت حد تک کامیاب ہوئے ہیں۔چین میں کام کرنے والوں کی ایک خاص (چھوٹی اکائی) بریگیڈ ہے جو کہ غالباً دس پندرہ ہزار کی آبادی والے علاقے پر مشتمل ہے اس کو ٹا چاؤ کہتے ہیں ان کے افسر اور عہدیدار بڑے زیرک ہیں۔انہوں نے اپنے محنت کشوں کو اس طرح سنبھالا کہ اُنہوں نے اپنی ضرورت سے زیادہ کھانے والے اجناس کی پیداوار کی اور پھر انہوں نے دوسرے علاقوں کو کہا کہ ان کی نقل کرو چنانچہ چین میں وہ کہتے ہیں کہ ہمارے عوام کی محنت نے ہماری بھوک کو دور کر دیا۔ایک اور وقت میں ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ کسی جگہ قحط پڑ گیا اور کچھ عرصہ رہا ( مثلاً حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانے کے قحط کا ذکر قرآن کریم میں بھی آیا ہے ) اور اس کے بعد پھر بارشیں ہوئیں اور قحط کے آثار دور ہو گئے چنانچہ اس علاقے میں اس وقت یہ کہا گیا کہ بارشوں نے ہماری بھوک کو دور کرنے کا سامان پیدا کیا کیونکہ بارشوں نے غلہ اگا یا۔ایک اور شخص جس کو زیادہ علم حاصل ہے وہ کہتا ہے کہ ہوا کے دباؤ کچھ اس طرح کی شکلیں اختیار کر گئے کہ جو ہوائیں بادلوں کو لے کر اُڑ رہی تھیں ان کا رُخ ہمارے علاقے کی طرف ہو گیا اور اس طرح ہوا کے اس مناسب دباؤ کی وجہ سے ہمارے علاقے کا قحط دور ہو گیا۔فصلیں اچھی ہو گئیں اور ہماری بھوک کے دور ہونے کا سامان پیدا ہو گیا۔میرے عزیز بچو اور بڑوائیں یہ بتا رہا ہوں کہ یہ اسباب کی دنیا ہے اور علل کی دنیا ہے۔کسی چیز کو دور کرنے کی کوئی وجہ بنتی ہے مثلاً سردی لگتی ہے تو کپڑا اسے دور کرتا ہے اور اگر کپڑا بھی اسے دور نہ کرے یا کپڑا نہ ہو