خطباتِ ناصر (جلد6۔ 1975ء، 1976ء) — Page 317
خطبات ناصر جلد ششم ۳۱۷ خطبہ جمعہ ۳۰ / جنوری ۱۹۷۶ء جس وقت یہ محبت اپنی انتہا کو پہنچتی ہے تو پھر خدا ہی خدا اور اللہ ہی اللہ اس کے سامنے ہوتا ہے ہر دوسری چیز اس کی نظر سے غائب ہو جاتی ہے اور وہ حقیقی طور پر خدا تعالیٰ میں نہاں ہو جاتا ہے۔پس تم اس شور و فغاں کے زمانہ میں دعاؤں کے ساتھ خدا تعالیٰ کی رحمت میں نہاں ہونے کی کوشش کرو اور دعاؤں کی قبولیت کے نشان دیکھ کر اپنی زندگیوں میں ایک زندہ معرفت کو حاصل کرو اور جب اور اگر اللہ تعالیٰ کی ولایت حاصل ہو جائے ، اگر تم اس کی نگاہ میں اولیاء اللہ میں شامل ہو جاؤ تو پھر یہ شور وشر بے نتیجہ اور بے اثر ہو جاتا ہے اور خدا تعالیٰ کے پیار کے سامنے غیر اللہ کی دشمنی کوئی معنی نہیں رکھتی۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا کرے۔وہ ہمیں دعا کی توفیق دے اور دعا کے نتیجہ میں وہ اپنے فضل سے معرفت عطا کرے۔اس معرفت سے وہ محبت پیدا ہو جو اس کے نیک بندوں میں اس کے لئے پیدا ہوتی ہے اور وہ ایسی محبت ہو کہ سوائے اللہ کے اور کوئی ہستی ہمارے لئے قابل توجہ نہ رہے۔اللہ ہی اللہ ہو ، مولا بس اور جب مولا بس ہو تو پھر کسی اور چیز کی ضرورت نہیں رہتی۔ان دنوں دوست بہت دعائیں کریں اپنے لئے معرفت کے حصول کے لئے بھی دعائیں کریں اور جس غرض کے لئے آپ کو پیدا کیا گیا ہے اس کے حصول کے لئے بھی دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ حقیقی اسلام کو ساری دنیا میں قائم کرے اور خدا تعالیٰ کے وہ وعدے جو اس زمانہ کے متعلق ہیں وہ پورے ہوں کہ مہدی علیہ السلام کی جماعت کے ذریعہ خدا تعالیٰ اسلام کو تمام ادیان باطلہ پر غالب کرے گا اور نوع انسانی خدا تعالیٰ کے پیار میں غرق ہو کر سب کے سب اسی میں نہاں ہو جائیں گے اور شیطان کو اور شیطانی حربوں کو اور شیطانی تدا بیر کو ایسے لوگ نہیں ملیں گے جن پر وہ کامیابی سے وار کر سکتا ہو۔اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے دنیا کی ہدایت کے سامان پیدا کرے اور اللہ تعالیٰ ہمیں دنیا کی ہدایت کے لئے ایک نمونہ بننے کی توفیق عطا کرے کیونکہ اس کے فضل اور اس کی رحمت کے بغیر کچھ حاصل نہیں ہوسکتا۔روزنامه الفضل ربوہ ۷ رفروری ۱۹۷۶ء صفحہ ۲، ۳)